مزید ٹیرف عائد کرنےکی دھمکیوں کے بعد امریکا اور یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، رپورٹ

0 6

:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مزید ٹیرف عائد کرنےکی دھمکیوں کے بعد امریکا اور یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بی بی سی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یورپی یونین میں ڈنمارک کے اتحادیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ڈنمارک کا ساتھ چھوڑ دیں اور امریکا کو گرین لینڈ کا کنٹرول سنبھالنے دیں۔

دوسری صورت میں ان ممالک کو امر یکا برآمد کی جانے والی تمام مصنوعات پر مزید ٹیکسز برداشت کرنا ہوں گے۔یورپ معیشتوں کے لیے یہ دھمکی ایک ڈراؤنا منظر ہے کیونکہ وہ پہلے ہی سے مشکلات کا شکار ہیں۔ خاص طور پر جرمنی اور اٹلی، جن کی کار انڈسٹری اور دیگر مصنوعات کی مارکیٹ کا انحصار امریکا پر ہے۔ایک ایسے وقت جب یورپی یونین اور برطانیہ نے گذشتہ برس ہی امریکی صدر کے ساتھ ٹیرف کے معاہدے کیے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں یورپی حکومتوں کو طمانچے کی طرح محسوس ہو رہی ہیں۔

فرانس کے وزیرِ خزانہ رولینڈ لیسکیور نے کہا ہے کہ ہم ایک مشکل راہ سے گزر رہے ہیں، ہم نے ایسا ماضی میں کبھی نہیں دیکھا۔ ایک اتحادی، ایک 250 برس پرانا دوست ٹیرف کو بطور جیوپولیٹیکل ہتھیار استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے ۔ جرمن وزیر خزانہ لارس کلنگبیل کہتے ہیں کہ ایک لکیر کراس ہو چکی ہے۔ میں آج یہ نہیں کہہ رہا کہ آگے کیا ہوگا، لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ اب یورپ کو تیار رہنا ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ کے لیے یورپ کے نرم رویے میں اچانک تبدیلی آ گئی ہے ۔

دریں اثنا امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کا پیغام شیئر کر دیا ہے جس میں فرانسیسی صدر نے لکھا ہے کہ ہم شام کے معاملے پر متفق ہیں، ایران پر اچھا کام کر سکتے ہیں، لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ گرین لینڈ کے معاملے پر کیا کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے شیئر کیے گئے پیغام میں صدر میکخواں بظاہر کہہ رہے ہیں کہ میں جمعرات کو ڈیووس میں جی سیون کا اجلاس بُلا سکتا ہوں۔ یوکرین، ڈنمارک، شام اور روس کے لوگوں کو مدعو کر سکتا ہوں۔ چلیں آپ کے امریکا جانے سے قبل جمعرات کو ہم سب مل کر پیرس میں ڈنر کرتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.