ریکوڈک میں سرمایہ کاری ملکی معیشت اور خطے میں تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی،سینیٹر محمد عبدالقادر

0 2

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ریکوڈک علاقے میں موجود تانبے اور سونے کے ذخائر عالمی سرمایہ کاروں کے لیے توجہ کا مرکز بن گئے ہیں آسٹریلوی مائننگ کمپنیوں نے ریکوڈک میں موجود تانبے و سونے کے وسیع ذخایر میں اپنی دلچسپی بڑھا دی ہے آسٹریلوی اداروں نے سرمایہ کاری کے ارادے کا اظہار کیا ہے یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اپنی غیر استعمال شدہ معدنی دولت کو بروئے کار لانے اور طویل المدتی اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے ریکوڈک کے معدنی وسائل سے صرف قومی خزانے کو ہی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ مقامی سطح پر بھی بہت بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے مقامی صنعتیں مضبوط ہوں گی اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے ذریعے علاقے کی معیشت کو پائیدار فائدہ پہنچے گا۔
یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمدعبدالقادر نے کہا کہ بلوچستان میں آسٹریلیا کی بڑی سرمایہ کاری سے مقامی مزدوروں کو روزگار کے ساتھ ساتھ تربیت کے مواقع بھی حاصل ہوں گے جس سے انسانی وسائل میں اضافہ ہوگا اور غربت کم کرنے میں مدد ملے گی ماحولیاتی تحفظ اور مقامی کمیونٹی کے حقوق کو یقینی بنانا حکومت اور سرمایہ کاروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے شفاف پالیسی، مناسب ریگولیشنز اور مقامی عوام کے فائدے کو اولین ترجیح دینے سے یہ منصوبہ کامیابی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے ریکوڈک میں سرمایہ کاری نہ صرف بلوچستان کے معدنی وسائل کو فعال کرے گی بلکہ پاکستان کی مجموعی معیشت اور خطے میں تجارتی تعلقات کو بھی مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی مقامی سطح پر معیشتی بہتری اور قومی سطح پر سرمایہ کاری کے فروغ کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ منصوبہ بلوچستان کے لیے طویل مدت کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.