وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کے مستقبل کی منصوبہ بندی میں نوجوانوں کی موثر شمولیت ناگزیر ہے کیونکہ آج کیے جانے والے ترقیاتی فیصلوں کے اصل ثمرات آنے والی نسلوں نے حاصل کرنے ہیں، بنو شاہین پروگرام نوجوانوں کو محض مسائل کی نشاندہی تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے عملی حل تلاش کرنے اور قومی ترقی میں موثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گا۔قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں بنو شاہین پروگرام کے تحت 1,700 ٹیموں کی تکمیل کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی میں بنو شاہین کے 50 چیپٹرز کا قیام اس قومی اقدام کی توسیع میں اہم پیش رفت ہے۔
وزارت منصوبہ بندی نے ملک بھر کی 165 سے زائد جامعات 1700 چیپٹرز قائم کیے ہیں تاکہ نوجوانوں کو ترقیاتی منصوبہ بندی سے جوڑنے کے ساتھ ان کے خیالات اور ترجیحات کو قومی پالیسی سازی میں شامل کیا جا سکے۔احسن اقبال نے کہا کہ بنو شاہین کا مقصد نوجوانوں کو علامہ اقبال کے شاہین کی طرح خوداعتماد، باصلاحیت اور عملی کردار ادا کرنے والا بنانا ہے جو پاکستان کے مسائل پر مایوسی کا اظہار کرنے کے بجائے ان کے حل کے لیے آگے بڑھیں۔ کامیاب قومیں مسائل کے ساتھ دستیاب مواقع کو بھی پہچانتی ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر مشکلات کو ترقی کے مواقع میں تبدیل کرتی ہیں۔تحریک پاکستان کے کارکنوں کی بے لوث جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ نسل 1947ء نے محدود وسائل کے باوجود ایک آزاد مملکت حاصل کرنے کا خواب حقیقت میں بدلا۔ اس نسل نے ذاتی مفادات اور مراعات کے بجائے ایک بڑے قومی مقصد کے لیے جدوجہد کی۔ آج کے نوجوانوں کے پاس ایک آزاد، خودمختار اور ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک، تعلیمی ادارے، وسائل اور مواقع موجود ہیں، اس لیے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ورثے کو آگے بڑھائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کے سو سال مکمل ہونے پر 2047ء میں ملک کو ایک نئی منزل پر پہنچنا چاہیے۔ پاکستان کو تین ٹریلین ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنا ایک اہم قومی ہدف ہے جس کے حصول کے لیے نوجوان نسل کو ترقی کے عمل میں مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے اپنی تاریخ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں تاہم قومی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے میں ناکامیوں کا دیانت دارانہ جائزہ بھی ضروری ہے۔ ویتنام کی برآمدات میں غیرمعمولی اضافے کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بعض ممالک نے کس طرح ترقی کی رفتار میں اسے پیچھے چھوڑا،محض صلاحیت اور وسائل کافی نہیں، ان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے سازگار ماحول، درست پالیسیاں، تسلسل اور موثر عمل درآمد ضروری ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ بنو شاہین کے تحت نوجوان اپنے علاقوں کے سماجی و معاشی ترقیاتی اشاریوں کا جائزہ لیں گے، بنیادی مسائل کی نشاندہی کریں گے اور ان کے قابل عمل حل پیش کریں گے۔ اس پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو مسائل کے تجزیے سے آگے بڑھ کر حل پر مبنی سوچ اپنانے اور اپنی صلاحیتوں کو عملی طور پر ثابت کرنے کا موقع ملے گا۔تعلیم اور انسانی ترقی کو قومی ترجیحات قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو ڈھائی کروڑ سکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں لانے کے لیے تیز رفتار اقدامات کرنا ہوں گے،بچوں میں غذائی قلت کے مسئلے سے نمٹنا بھی قومی ہنگامی ترجیح ہونی چاہیے تاکہ ہر بچے کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کے مواقع مل سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بلوچستان اور سابق فاٹا سمیت محروم علاقوں کے نوجوانوں کے لیے پانچ ہزار وظائف کا پروگرام شروع کیا گیا۔ اسی طرح لاکھوں نوجوانوں کو لیپ ٹاپ فراہم کیے گئے تاکہ وہ جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں، ان اقدامات کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور پسماندہ علاقوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنا ہے۔احسن اقبال نے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بڑے ڈیٹا اور سوشل میڈیا کے دور میں جعلی خبروں اور گمراہ کن بیانیوں سے پیدا ہونے والے خطرات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو معلومات کی تصدیق، ذمہ دارانہ ابلاغ اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینا ہوگا تاکہ معاشرے کو انتشار اور غلط معلومات کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔وفاقی وزیر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مایوسی کے بجائے امید، شکایت کے بجائے حل اور ذاتی مفاد کے بجائے قومی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ جس عزم اور اجتماعی جدوجہد کے ذریعے پاکستان حاصل کیا گیا، اسی جذبے کے ساتھ نوجوان ملک کو ترقی، خوشحالی اور معاشی استحکام کی نئی منزلوں تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔