مشکل مالی حالات کے باعث ائیر لفٹ کمپنی نے پاکستان میں سروس بند کر دی

ای کامرس اسٹارٹ اپ بزنس کیلئے جھٹکا،نئی کمپنیوں کیلئے کاروباری حالات دگرگوں،ویلتھ پاک کی رپورٹ
اسلام آباد:مشکل مالی حالات کے باعث ائیر لفٹ کمپنی نے پاکستان میں سروس بند کر دی، ای کامرس اسٹارٹ اپ بزنس کیلئے جھٹکا،نئی کمپنیوں کیلئے کاروباری حالات دگرگوں۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ای کامرس اسٹارٹ اپ ایئر لفٹ کی بندش کے بعد پاکستانی اسٹارٹ اپ انڈسٹری کے بارے میں بہت سے خدشات گردش کر رہے ہیں۔ ائیر لفٹ کمپنی کے بند ہونے نے پاکستان میںاس نوزائیدہ صنعت کو جھٹکا دیا۔ لاہور میں واقع سٹارٹ اپ ایئر لفٹ نے ملازمین کو بتایا کہ وہ پاکستان میں کام مستقل طور پر بند کر دے گی۔ سٹارٹ اپ نے اگست 2021 میں ملک کے سب سے بڑے سیریزبی فنڈنگ راونڈ میں 275 ملین ڈالر کی قیمت کے ساتھ 85 ملین ڈالر اکٹھے کیے تھے جو کسی بھی پاکستانی سٹارٹ اپ کے لیے سب سے زیادہ تھے۔ ماہرین کے مطابق پاکستانی سٹارٹ اپ انڈسٹری کے لیے مارکیٹ میں اب بھی بہت بڑی صلاحیت اور جگہ موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سٹارٹ اپ سرمایہ کار نہیں بلکہ اس کے بانی چلاتے ہیں۔ وہ سٹارٹ اپ جو ہمیشہ مشترکہ سرمایہ کارکی تلاش میں رہتے ہیں وہ ایک اضافی میل کا سفر نہیں کر سکتے۔ پاکستانی ای کامرس اسٹارٹ اپ دوکان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محسن رحمان نے کہا کہ وہ ائیر لفٹ میں ایک چھوٹے شیئر ہولڈر تھے اور مجھے یقین ہے کہ پاکستان اس طرح کے بہت سے اسٹارٹ اپ کو ملک میں ایک بار پھر عظیم کام کرتے ہوئے دیکھے گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بہت سے حیرت انگیز اسٹارٹ اپس ہیں جنہوں نے اپنی شناخت بنائی ہے اوراپنے کاروباری ماڈلز کو ثابت کیا ہے۔ سی ای او نے کہا کہ اسٹارٹ اپ نہ صرف پاکستان میں بلکہ عالمی سطح پر باقاعدگی سے ناکام ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا مضحکہ خیز ہے کہ ایئر لفٹ کی بندش کے پورے نظام پر اثرات مرتب ہوں گے۔اس وقت ہر کوئی مشکل وقت سے گزر رہا ہے ہم بھی اس سے گزریں گے۔ مزید بندشیں اور برطرفیاں ہوں گی۔ ہم نے 22 کروڑ افراد کے ساتھ 250 ارب ڈالر کی معیشت میں ابھی شروعات کی ہے، ان میں سے 80 فیصد بالغ افراد ہیں جو موبائل براڈ بینڈ استعمال کرتے ہیں۔محسن رحمان نے کہاکہ وقت کی ضروریات کے مطابق کاروباری حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ ہم اس وقت سرمائے پر مجبور معیشت میں ہیں۔ یونٹ اکنامکس کو اپناکام کرنا چاہیے اور اسے جذب کرنے کے لیے سرمائے کی دستیابی کے ساتھ ترقی کو متوازن ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپ عالمی سطح پر ناکام ہو رہے ہیںاور پاکستان میں تمام اسٹارٹ اپس کے مستقبل کو ایئر لفٹ کی قسمت پر لگانا غیر منطقی ہے۔ کاروباری اور مالیاتی مشیر خرم محمودنے ویلتھ پاک کو بتایا کہ کاروباری تشخیص صرف ایک عدد ہے جس پر سرمایہ کاروں نے اتفاق کیا ہے۔ کسی کمپنی کو ‘ٹاپ اسٹارٹ اپ’ کہنا مناسب نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اسٹارٹ اپ بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں لیکن منافع نہیں کما رہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.