مذاہب اور اقوام کا تنوع ہماری طاقت ہے ،گورنربلوچستان ، وفاقی وزیر مذہبی امور کا کانفرنس سے خطاب

گورنر بلوچستان شیخ جعفرخان مندوخیل اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہاہے کہ پاکستان میں مذاہب اور اقوام کا تنوع ہی ہماری طاقت ہے پاکستان اور بلوچستان میں تمام اقلیتوں کی زندگی کے مختلف شعبوں میں گرانقدر خدمات ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ بھی وہ ملک و صوبے کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہیں گے، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ اقلیتوں کو مکمل تحفظ دیا جائے گا،اختلاف رائے کا احترام انسانی معاشرے کا حسن ہے، آئین پاکستان میں ہے کہ ملازمتوں میں اقلیتوں کو حصہ دیا جائے ۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے گورنر ہائوس کوئٹہ میں بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر صوبائی مشیر برائے ماحولیات نسیم الرحمن ملاخیل ،پارلیمانی سیکرٹری برائے مذہبی امور سنجے کمار،مولاناانوارالحق حقانی ،قاری عبدالرشیدسمیت مختلف مکاتب سے تعلق رکھنے والے سکالرز اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے ۔

گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بین المذہب ہم آہنگی کانفرنس کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا آئین ہی پاکستان میں بسنے والی تمام مذہبی اقلیتوں سمیت تمام شہریوں کو مساوی حقوق، مذہبی آزادی اور اظہار رائے کا حق دینے کا ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو اپنے سیاسی اکابرین سے یہی سیکھا ہے کہ ہم رنگ، مذہب اور نسل کی بنیاد پر کسی سے دوستی یا دشمنی نہیں کرتے۔
آج کے نفسانفسی کے دور میں، بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔ مختلف مذاہب کے سرکردہ افراد کا اخلاقی فریضہ ہے وہ معاشرے میں رواداری، ہمدردی اور حب الوطنی کو فروغ دینے میں اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔ اس طرح ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جہاں ہر شخص کا احترام ہو۔ انہوں نے کہا کہ سردست ملک وصوبے کو امن و آشتی کا گہوارہ بنانے کیلئے بھائی چارے، اختلاف رائے کا احترام، مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہاکہ یکجہتی سے ہم فرقہ واریت کا خاتمہ کر رہے ہیں، بین المذاہب ہم آہنگی کسی بھی معاشرے کی ضرورت ہے، اقلیتوں سے بہتر سلوک ہمارے مزہب کا حصہ ہے، قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ اقلیتوں کو مکمل تحفظ دیا جائے گا، سردار محمد یوسف نے کہاکہ آئین پاکستان میں ہے کہ ملازمتوں میں اقلیتوں کو حصہ دیا جائے، اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی تعمیر کے لئے وزارت مذہبی امور فنڈز دیتی ہے،اقلیتوں کے مذہبی تہوار پاکستان میں سرکاری طور پر منائے جاتے ہیں، ملازمتوں میں اقلیتوں کے 5 فیصد کوٹہ پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے، پاکستان کے تمام اداروں کو خصوصا اساتذہ اور علما کرام کو ملی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.