بداخلاقی کرنے اور گالیاں دینے والے شخص کو وزیراعظم نہیں ہونا چاہیے، عمران خان نیازی عمران خود بھگوڑا ، الیکشن میں دھاندلی کی پیداور ہیں،شہبازشریف
عمران خان کہتے ہیں کہ شہباز شریف بوٹ پالش کرتے ہیں حالانکہ وہ خود اسٹیبلشمنٹ کے لائے ہوئے ہیں،تم خواتین تک پہنچے ہو، ایسی زبان استعمال کررہے ہو جس کا اسلام میں بھی اجازت نہیں
آئین کے مطابق پارلیمان کے ذریعے نیازی کی حکومت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، ہم عمران نیازی کو ملک کو ترقی کے ٹریک سے اتارنے کی اجازت نہیں دیں گے کرپشن عمران خان کے گھر میں ہے، تم ڈی چوک آؤ، ہم تمہارا بھرپور مقابلہ کریں گے اور تمہیں ناکوں چنے چبوادیں گے
مولانا فضل الرحمان نے بہت بردباری کا مظاہرہ کیا ، افواج پاکستان کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ،تم نے لندن میں بیٹھ کر افواج پاکستان پر تنقید کی،صدر مسلم لیگ ن کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو
الیکشن کمیشن نوٹس لے وزیراعظم کس طرح عوام میں تقاریر کررہا ہے، عمران خان کو لگام دی جائے پاکستان اب مزید اس طرح کے لوگوں کا متحمل نہیں ہوسکتا، ہمارے پاس اکثریت موجود ہے، آپ کے پاس ہے تو سیاسی جنگ لڑیں، سربراہ پی ڈی ایم
اسلام آباد:مسلم لیگ ن کے صدر و اپوزیشن لیڈ رشہباز شریف اور سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم عمران خان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی زبان کو قابو میں رکھیں ورنہ انہیں قابو کرنا آتا ہے، بداخلاقی کرنے اور گالیاں دینے والے شخص کو وزیراعظم نہیں ہونا چاہیے۔تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی جس میں موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان جو زبان استعمال کررہے ہیں اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، وہ نواز شریف کو بھگوڑا کہہ رہے ہیں حالا نکہ وہ عنقریب خود بھگوڑا ہونے والے ہیں، عمران خان نیازی الیکشن میں دھاندلی کی پیداور ہیں، عمران خان کہتے ہیں کہ شہباز شریف بوٹ پالش کرتے ہیں حالانکہ وہ خود اسٹیبلشمنٹ کے لائے ہوئے ہیں۔تم خواتین تک پہنچے ہو، ایسی زبان استعمال کررہے ہو جس کا اسلام میں بھی اجازت نہیں ۔ شہباز شریف نے کہا آئین کے مطابق پارلیمان کے ذریعے نیازی کی حکومت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ہم عمران نیازی کو ملک کو ترقی کے ٹریک سے اتارنے کی اجازت نہیں دیں گے کرپشن عمران خان کے گھر میں ہے، عمران خان کی بہن علیمہ خان کے پاس بیرون ملک جائیدادیں کہاں سے آئیں۔ تم جس طرح کی زبان استعمال کررہے اسکی مہذب معاشرے میں اجازت نہیں۔میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ اپنی زبان کو قابو میں رکھو ورنہ ہمیں قابو کرنا آتا ہے۔نمل یونیورسٹی کے لیے آنے والا پیسہ کیوں ڈیکلیئر نہیں کیا۔ آپکی بہن نمل یونیورسٹی کی بورڈ میں شامل ہے۔ تم کہتے شہباز شریف بوٹ پالش کررہا تھا، تم بتاو تم کیا کرتے تھے؟ ۔ انہوں نے کہا کہ میں بوٹ پالش نہیں کرتا جب مشرف نے ہماری حکومت گرائی تو میں خود بھی اٹک جیل میں تھا اگر بوٹ پالش کرنے والا ہوتا تو جیلوں میں نہ جاتا۔ شہباز شریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے اظہار افسوس کے لئے آیا تھا۔کل جمعیت علماء اسلام کے ارکان کے ساتھ ظلم و بربریت ہوئی۔اس سے بدترین مثال پارلیمان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔مولانا فضل الرحمان نے بہت بردباری کا مظاہرہ کیا حالا نکہ جے یو آئی کے ایم این ایز کے ساتھ ظلم کا مظاہرہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا افواج پاکستان کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ تم نے لندن میں بیٹھ کر افواج پاکستان پر تنقید کی۔ اس کی ویڈیو سب نے دیکھی۔ نواز شریف کو جہاں جہاں جیل ہوئی میں ان کے ساتھ تھا۔ جو حرام کی کمائی تم کھا رہے ہو اس کا حساب دینا ہوگا۔ ہماری منہ سے باتیں نہ نکالوں ورنہ تیرے لئے مشکل ہوگا۔ تم ڈی چوک آؤ، ہم تمہارا بھرپور مقابلہ کریں گے اور تمہیں ناکوں چنے چبوادیں گے، آپکے وزیر داخلہ کو میں جانتا ہوں وہ شیخ حرم ہے میں پہلے عمران خان کی باتوں کا جواب نہیں دیتا تھا لیکن آ ج دیا ہے تاہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔ عمران نیازی اب بھگوڑا ہوچکا ہے۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان کی کیفیت خراب ہوچکی ہے ان کے حواس اڑچکے ہیں، شرافت عمران خان میں پیدائشی طور پر شرافت نہیں تھی پتا نہیں کہاں سے یہ قوم کے گلے پڑ گئے لیکن اب قوم کی نجات کے دن قریب آگئے ہیں، جب ہم نے کال دی تو ایک گھنٹے میں پورا مل جام ہوگیا، عمران خان سن لو ہم تمہیں جام کرنا جانتے ہیں، تم نام بگاڑتے ہو، بداخلاقی کرتے ہو ، تمہاری زبان بتارہی ہے کہ تم وزیراعظم بننے کے اہل نہیں، تمہیں وزیراعظم بنانا اس منصب کی بے توقیری ہے۔ عمرن خان کو لگام دی جائے۔سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ الیکشن کمیشن نوٹس لے وزیراعظم کس طرح عوام میں تقاریر کررہا ہے، عمران خان کو لگام دی جائے پاکستان اب مزید اس طرح کے لوگوں کا متحمل نہیں ہوسکتا، ہمارے پاس اکثریت موجود ہے، آپ کے پاس ہے تو سیاسی جنگ لڑیں، عدم اعتماد کی تقاریر آتی ہیں تم حواس باختہ کیوں ہوگئے؟ اور گالیاں کیوں دیتے ہو؟ اس سطح کے انسان کو حکمران نہیں ہونا چاہیے۔ اگر میں نے کوئی پرمٹ لیا ہے تو کرپشن سامنے لائی جائے وزیراعظم نے کہا کہ ہم عدم اعتماد کی تحریک نہیں بلکہ آپ کے خلاف جہاد لڑرہے ہیں، پھر معاملات سڑکوں پر آئیں گے اور انارکی کی طرف جائیں گے، اگر میں نے بطور وزیر کوئی پرمٹ لیے ہیں اور کرپشن کی ہے تو آپ کے پی کے میں چار سال سے ہیں ، ہمت ہے تو ہمارے خلاف کوئی کرپشن کیس لے آئیں۔ جنرل باجوہ کی جانب سے عمران خان کو ڈیزل کہنے سے منع کرنے کے صحافی کے سوال پر فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے ایسی کسی بات کا عمل نہیں، آپ جانتے ہیں میں کس سطح کی سیاست کرتا ہوں، میں ہمیشہ خیال رکھتا ہوں کہ اپنے کام سے کام رکھوں اور سول اور ملٹری بیورو کریسی کو الگ الگ رکھوں، دونوں ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے دن قریب ا?چکے ہیں، عمران خان کو وارننگ دے رہے ہیں کہ اپنی زبان ٹھیک کرلے۔#/s#