مری: تحصیل مری کے گاؤں سنبل سیداں میں شملات اور سرکاری اراضی پر مبینہ قبضے، ریونیو ریکارڈ میں مبینہ ٹیمپرنگ، غیر قانونی تعمیرات اور اہلِ علاقہ کو مبینہ دھمکیوں کے معاملے پر مقامی آبادی میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اہلِ علاقہ نے ڈپٹی کمشنر مری ظہیر عباس شیرازی اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مری سے صورتحال کا فوری نوٹس لینے اور سرکاری و شملات اراضی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اہلِ علاقہ کے مطابق خسرہ نمبر 2083 میں شامل شملات اراضی پر مبینہ قبضے اور اسے غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مذکورہ اراضی پر تقریباً ایک صدی قدیم قبرستان، مرکزی عیدگاہ، 1880ء میں قائم شدہ قدیمی بُن (تالاب) اور 1970ء میں قائم ہونے والا گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول موجود ہیں، جس کے باعث اس اراضی کی عوامی، تاریخی اور سرکاری اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
اہلِ علاقہ نے ڈپٹی کمشنر مری ظہیر عباس شیرازی کی بروقت اور قابلِ تحسین کارروائی پر خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 11 اگست کو اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر نے فوری نوٹس لیا اور متعلقہ محکموں کے افسران و اہلکاروں کو موقع پر بھجوا کر مبینہ طور پر نصب کی گئی غیر قانونی پکیٹیں ہٹوا دیں۔
مقامی افراد کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی فوری مداخلت سے مبینہ قبضے کی کوشش بروقت روکی گئی اور سرکاری و شملات اراضی کو مزید نقصان سے محفوظ بنانے میں مدد ملی۔ اہلِ علاقہ نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف انتظامیہ پر ان کا اعتماد مضبوط ہوا بلکہ عوامی اراضی کے تحفظ کے حوالے سے بھی ایک مثبت پیغام گیا۔
تاہم اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو روز سے بعض مقامی و غیر مقامی عناصر کی جانب سے دوبارہ مبینہ طور پر طاقت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس اور بے چینی پائی جاتی ہے۔
ریونیو ریکارڈ کی شفاف جانچ کا مطالبہ
پبلک ویلفیئر کونسل سنبل سیداں، مری کے جنرل سیکرٹری نعیم سبزواری نے مطالبہ کیا ہے کہ خسرہ نمبر 2083 سمیت متعلقہ اراضی کے ریونیو ریکارڈ کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ جانچ کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریکارڈ میں مبینہ ٹیمپرنگ یا جعل سازی، قبضے کی مبینہ کوشش اور کسی ممکنہ غیر قانونی انتقال یا فروخت کے معاملے کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک متنازعہ اراضی کے حوالے سے کسی بھی قسم کے انتقال، فروخت، تعمیر یا قبضے کی کوشش روکی جائے، جبکہ قبرستان، مرکزی عیدگاہ، قدیمی بُن اور گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول سے متعلق اراضی کو مستقل طور پر محفوظ بنایا جائے۔
اہلِ علاقہ نے ڈی پی او مری سے بھی اپیل کی کہ مقامی افراد کو مبینہ دھمکیوں، دباؤ اور ہراساں کیے جانے کے معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔