پنجاب یونیورسٹی کتاب میلے میں 2 لاکھ کتابوں کی ریکارڈ فروخت، لاکھوں افراد کی شرکت

پنجاب یونیورسٹی کتاب میلے میں 2 لاکھ کتابوں کی ریکارڈ فروخت، لاکھوں افراد کی شرکت
لاہور: پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام پاکستان کے سب سے بڑے تین روزہ کتاب میلے میں ہزاروں افراد نے 2 لاکھ سے زائد کتابیں خرید کر تاریخ میں نیا ریکارڈ بنا ڈالا۔ کتاب میلے کے پہلے روز45ہزار، دوسرے روز65ہزار اور تیسرے روز 90ہزار سے زائد کتابیں فروخت ہوئیں جبکہ خبر فائل کرنے تک کتابوں کی گنتی جاری تھی۔ تین روز جاری رہنے والے کتاب میلے میں پاکستان بھر سے عام افراد نے شرکت کی۔ جبکہ مختلف جامعات، سکولز اور کالجز سے طلباء و طالبات، اساتذہ،سیاستدان، سول سرونٹس، وکلاء، شعراء، ادیب،فیملیز اور خصوصی افراد نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور پنجاب یونیورسٹی میں شاندار کتاب میلے کیلئے انتظامیہ کو سراہا۔ تیسرے روز مختلف سٹالز کا دورہ کرتے ہوئے وائس چانسلر کا کہناتھا کہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام پاکستان کے سب سے بڑے تین روزہ کتاب میلے کا مقصد نوجوان نسل میں کتاب دوستی کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ کتاب علم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے جس سے معاشرے میں اچھائی کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیوں کے لئے فروغ کے لئے دیگر جامعات کو بھی اقدامات کرنے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام تین روزہ کتاب میلے، لٹریری فیسٹیول، کتابوں کی تقریب رونمائی اور مشاعرے کے انعقاد پر اساتذہ، طلبہ اور ملازمین مبارک باد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کامیاب اور پُر امن کتاب میلے کے انعقاد پر منتظمین کی کاوشوں کوسراہا۔ کتاب میلے کے تحت پنجاب یونیورسٹی ادارہ تعلیم و تحقیق کے وحید شہید ہال میں سابق آئی جی ذوالفقار احمد چیمہ کی تصانیف’جہد مسلسل‘،’افکارِ تازہ‘اور’سمجھتا ہوں جسے حق‘کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی،پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمود سلیم، ذوالفقار احمد چیمہ، ڈاکٹر بصیرہ امبرین، شمائل احمد خواجہ،ڈائریکٹر ادارہ تعلیم و تحقیق پروفیسر ڈاکٹرعبدالقیوم چوہدری، فیکلٹی ممبران، سول سرونٹس اور طلباؤطالبات نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ سول سرونٹس کی تصانیف کا انداز الگ ہوتا ہے،جن میں زندگی کا درس، پیشہ ورانہ تجربات، خاندان کے ساتھ سلوک اور نوکری کے حصول کے طریقے جاننے کا موقع ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لئے سیکھنے کا بہترین موقع کتب بینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنف کی ملک کے لئے بے پناہ خدمات ہیں،جو سراہے جانے کے قابل ہیں۔انہوں نے بہترین موضوعات پر شاندار تصانیف کیلئے مصنف کی کاوشوں کو سراہا۔ ذوالفقار احمد چیمہ نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں شاندار کتاب میلہ دیکھ کردل خوش ہوگیا، جس میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ نے کتابیں خریدی۔ انہوں نے کہا کہ علم دولت اور منصب سے زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب علم کانور پھیلاتی اور جہالت کے اندھیرے دور کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو علم اور کتاب سے ناطہ جوڑنا ہوگا۔ مقررین نے کہا کہ یہ تصانیف ہمیں کامیاب شخصیات سے سیکھنا سکھاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مصنف نے ہمیشہ راست گوئی اور حق گوئی کا علم بلند کیا۔انہوں نے کہا کہ کتاب کا ایک ایک حرف مصنف کے صاحب کردار ہونے کی دلیل ہے۔ مقررین نے پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام تین روزہ کتاب میلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے کتب بینی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کتابے میلے کے بہترین انعقاد پر ٹیم کی کاوشوں کو بھی خوب سراہا۔ یونیورسٹی کتاب میلے میں 2 لاکھ کتابوں کی ریکارڈ فروخت، لاکھوں افراد کی شرکت
لاہور(17اکتوبر،ہفتہ): پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام پاکستان کے سب سے بڑے تین روزہ کتاب میلے میں ہزاروں افراد نے 2 لاکھ سے زائد کتابیں خرید کر تاریخ میں نیا ریکارڈ بنا ڈالا۔ کتاب میلے کے پہلے روز45ہزار، دوسرے روز65ہزار اور تیسرے روز 90ہزار سے زائد کتابیں فروخت ہوئیں جبکہ خبر فائل کرنے تک کتابوں کی گنتی جاری تھی۔ تین روز جاری رہنے والے کتاب میلے میں پاکستان بھر سے عام افراد نے شرکت کی۔ جبکہ مختلف جامعات، سکولز اور کالجز سے طلباء و طالبات، اساتذہ،سیاستدان، سول سرونٹس، وکلاء، شعراء، ادیب،فیملیز اور خصوصی افراد نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور پنجاب یونیورسٹی میں شاندار کتاب میلے کیلئے انتظامیہ کو سراہا۔ تیسرے روز مختلف سٹالز کا دورہ کرتے ہوئے وائس چانسلر کا کہناتھا کہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام پاکستان کے سب سے بڑے تین روزہ کتاب میلے کا مقصد نوجوان نسل میں کتاب دوستی کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ کتاب علم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے جس سے معاشرے میں اچھائی کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیوں کے لئے فروغ کے لئے دیگر جامعات کو بھی اقدامات کرنے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام تین روزہ کتاب میلے، لٹریری فیسٹیول، کتابوں کی تقریب رونمائی اور مشاعرے کے انعقاد پر اساتذہ، طلبہ اور ملازمین مبارک باد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کامیاب اور پُر امن کتاب میلے کے انعقاد پر منتظمین کی کاوشوں کوسراہا۔ کتاب میلے کے تحت پنجاب یونیورسٹی ادارہ تعلیم و تحقیق کے وحید شہید ہال میں سابق آئی جی ذوالفقار احمد چیمہ کی تصانیف’جہد مسلسل‘،’افکارِ تازہ‘اور’سمجھتا ہوں جسے حق‘کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی،پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمود سلیم، ذوالفقار احمد چیمہ، ڈاکٹر بصیرہ امبرین، شمائل احمد خواجہ،ڈائریکٹر ادارہ تعلیم و تحقیق پروفیسر ڈاکٹرعبدالقیوم چوہدری، فیکلٹی ممبران، سول سرونٹس اور طلباؤطالبات نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ سول سرونٹس کی تصانیف کا انداز الگ ہوتا ہے،جن میں زندگی کا درس، پیشہ ورانہ تجربات، خاندان کے ساتھ سلوک اور نوکری کے حصول کے طریقے جاننے کا موقع ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لئے سیکھنے کا بہترین موقع کتب بینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنف کی ملک کے لئے بے پناہ خدمات ہیں،جو سراہے جانے کے قابل ہیں۔انہوں نے بہترین موضوعات پر شاندار تصانیف کیلئے مصنف کی کاوشوں کو سراہا۔ ذوالفقار احمد چیمہ نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں شاندار کتاب میلہ دیکھ کردل خوش ہوگیا، جس میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ نے کتابیں خریدی۔ انہوں نے کہا کہ علم دولت اور منصب سے زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب علم کانور پھیلاتی اور جہالت کے اندھیرے دور کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو علم اور کتاب سے ناطہ جوڑنا ہوگا۔ مقررین نے کہا کہ یہ تصانیف ہمیں کامیاب شخصیات سے سیکھنا سکھاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مصنف نے ہمیشہ راست گوئی اور حق گوئی کا علم بلند کیا۔انہوں نے کہا کہ کتاب کا ایک ایک حرف مصنف کے صاحب کردار ہونے کی دلیل ہے۔ مقررین نے پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام تین روزہ کتاب میلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے کتب بینی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کتابے میلے کے بہترین انعقاد پر ٹیم کی کاوشوں کو بھی خوب سراہا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.