کوئٹہ ۔۔۔
بلوچستان عوامی پارٹی کی رہنماءو سابق رکن صوبائی اسمبلی ثمینہ خان نے کہا کہ ملکی سیاست میں اداروں کوگھسٹینے کی کسی کو اجازت نہیں ملنی چاہیے ،ملکی سیاست خطرناک رخ اختیار کررہی ہے تمام اداروے ہمارے لئے باعث احترام ہیں ،اداروں کے خلاف کچھ سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کے بیانیے کو عوامی سطح پرکوئی پذیرآئی نہیں ملی، ملکی اداروں کو بدنام کرنے سے ہم اپنے دشمنوں کو فائدہ پہنچارہے ہیں اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور افواج پاکستان ہماری محافظ کچھ عرصہ سے اداروں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بدنام کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں جن کی کسی بھی طور پر محب وطن عوام اجازت نہیں دیں گے، انہوں نے کہا گزشتہ کچھ ہفتوں سے کہ بھارتی میڈیا میں ہمارے ملک کے خلاف جو پروپگنڈے کیا جارہا ہے ااس کاباعث ہمارے وہ سیاسی رہنماءہیں جو کلیدی عہدوں فائز رہے ان کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو باشعور سیاسی حلقوں کی جانب سے یکسر مسترد کیا جاناہی ان کے جھوٹاہونے کا ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں بلوچستان کی ترقی ماضی کے حکمرانوں کی آنکھوں میں کھٹک رہی ہے بلوچستان کارڈ کو اب کسی کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی موجودہ ہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صوبے کوترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ماضی کی حکومتوںکی طرح صرف بیانات پر ہی اکتفانہیں کررہیں بلکہ عملی اقدامات اٹھا کر ثابت کررہی ہیں کہ حقیقی عوامی حکومتیں ایسی ہوتی ہیں انہوں نے کہا آرامی چیف جنرل قمر باجوہ ،وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی بلوچستان جام کمال صوبے کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے ایک پیج پر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جنوبی بلوچستان کی ترقی کے لئے جو پیکج دیا جارہا ہے اس سے صوبے میں بے روزگاری اور محرومیوں کا کافی حد تک ازالہ ہوگا انہوں نے کہا چیدگی ، پنجگور، آروان، بیلہ روڈ کی تعمیر ایک اہم منصوبہ ہے اگر یہ مکمل ہوتا ہے تو نہ صرف ان علاقوں میں خوشحالی آئے گی بلکہ دہشت گردی پر بھی قابو پانے میں ہمارے اداروں کو مدد ملے گی انہوں نے کہا کہ وزیراعلی جام کمال ایک وژن کے تحت صوبے کو چلارہے ہیں جس کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں وہ دن دور نہیں جب ہمارا صوبہ اپنے پاو¿ں پر کھڑا ہوگا