وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کی زیر صدارت اوکاڑہ یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کے مالیاتی نظم و ضبط اور اخراجات میں کمی کے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ یونیورسٹی نے400 وزٹنگ فیکلٹی پر سالانہ تقریبا30 کروڑ روپے کے اخراجات اور ایک ہی کلاس کے مختلف سیکشنز کو یکجا کرنے سے حاصل ہونے والی بچت کے ذریعے گزشتہ ایک سال میں40 کروڑ روپے بچائے،جو وسائل کے موثر استعمال کی قابلِ تقلید مثال ہے۔صوبائی وزیر تعلیم نے سال2024 سے2026 کے درمیان ایڈمیشن گروتھ میں310 فیصد اضافے پر بھی یونیورسٹی انتظامیہ کی تعریف کی۔سنڈیکیٹ اجلاس کے دوران رانا سکندر حیات نے چند فیکلٹیز کے علاوہ دیگر تمام فیکلٹیز میں فیس میں اضافے کی سفارش رد کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص مضامین کی فیس بھی10 فیصد سے زیادہ نہ بڑھائی جائے۔
صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ رواں تعلیمی سیشن میں اوکاڑہ یونیورسٹی میں7585 نئے طلبا انرول ہوئے۔دو سالوں میں13000 سے زائد طلبا نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔نئے طلبا کی انرولمنٹ کے بعد یونیورسٹی میں مجموعی تعداد ساڑھے18 ہزار سے زائد ہو گئی۔وزیر تعلیم پنجاب نے کہا کہ گزشتہ2 سالوں میں اوکاڑہ یونیورسٹی کے انفراسٹرکچر ڈویلیمنٹ میں بہتری آئی۔یونیورسٹی نے440 ملین کے آن سورس ریونیو سے انفراسٹرکچر بہتر کیا اور فنانشل ہیلتھ بہتر کرتے ہوئے1.5 بلین کا انڈوومنٹ فنڈ بنایا،جس سے یونیورسٹی کو 1 سال میں16 کروڑ کا منافع حاصل ہوا۔
وزیر تعلیم پنجاب نے یونیورسٹی میں ہونے والی ہر بھرتی کا عمل90 دن کی مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی اور ان بھرتیوں کو سنڈیکیٹ کی اجازت سے مشروط کرتے ہوئے سلیکشن کمیٹی بھی بنا دی۔رانا سکندر حیات نے پبلک کالجز کی اوکاڑہ یونیورسٹی کے ساتھ ایفیلی ایشن کی منظوری بھی دی جبکہ نجی کالجز کے الحاق کیلئے کمیٹی بناتے ہوئے کالجز میں موجود سہولیات کو مدنظر رکھنے اور ایفیلی ایشن کیلئے تعلیمی معیار پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کی سخت ہدایت کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی جامعات مالی طور پر مستحکم ہو رہی ہیں، اوکاڑہ یونیورسٹی اس کی روشن مثال ہے۔