صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے ان کی نامزدگی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدور کو ارسال کردہ خط کے ذریعے پیش کی، اس اہم پیش رفت سے اقوام متحدہ کی آئندہ قیادت کے انتخاب میں متحدہ عرب امارات بھی براہِ راست شامل ہوگیا ہے۔
لانا نسیبہ 2013 سے 2024 تک اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کی مستقل مندوب رہ چکی ہیں۔ اس دوران انہوں نے جنرل اسمبلی کی نائب صدر، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کی انتظامی کونسل کی صدر اور سلامتی کونسل کی دو مرتبہ صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
ان کی سفارتی سرگرمیوں میں عالمی امن، سلامتی، انسانی امداد، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات نمایاں رہی ہیں۔
اماراتی صدر نے نامزدگی کے خط میں لانا نسیبہ کے وسیع سفارتی تجربے، عالمی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔
لانا نسیبہ نے اپنی امیدواری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو عالمی بحرانوں کا محض مشاہدہ کرنے کے بجائے ان کے حل کے لیے مؤثر سفارتی کردار ادا کرنا چاہیے۔
اس نامزدگی کو خلیجی سطح پر بھی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے تمام چھ رکن ممالک نے لانا نسیبہ کی امیدواری کی تائید کی ہے۔
اگر وہ منتخب ہوجاتی ہیں تو اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی خاتون سیکرٹری جنرل اور مصر کے بطرس بطرس غالی کے بعد اس منصب پر فائز ہونے والی دوسری عرب شخصیت ہوں گی۔
اقوام متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مدت 31 دسمبر 2026 کو مکمل ہوگی، جبکہ نئے سیکرٹری جنرل کی ذمہ داریاں جنوری 2027 سے شروع ہوں گی۔
اقوام متحدہ کے ضابطے کے مطابق سلامتی کونسل کی سفارش پر جنرل اسمبلی نئے سیکرٹری جنرل کا تقرر کرے گی، اس سلسلے میں مختلف امیدواروں پر مشاورت جاری ہے اور ابھی کسی امیدوار کے انتخاب کا حتمی اعلان نہیں ہوا۔