بلوچستان میں مسلم لیگ نون میں بغاوت ،،نواب ثناء اللہ زہری اور ریٹائرڈ جنرل عبدالقادر بلوچ کا نواز شریف کو کھلا چیلنج

کوئٹہ میں میٹروپولٹین کارپوریشن کے سبزہ زار پر جلسہ س خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعلی نواب ثناء اللہ زہری کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف نے اپنے محسنوں کو نہیں چھوڑا، ضیاء الحق کا بیٹا بھی نواز شریف کی بے وفائی کے قصے سناتا ہے، نواز شریف نے میرے بچوں کو شہید کر کے اپنی مفادات کی بھینٹ چڑھایا،2018 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ کوئی لینے کو تیار نہیں انہوں نے بی این پی مینگل کے سربراہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ان کی  ابھی تک حکومت سے نکلنے کی عدت بھی پوری نہیں ہوئی حکومت سے نکلتے ساتھ پی ڈی ایم کے ساتھ بیٹھ گئے،جلسے سے ایک دن پہلے شہنشاہ عالم لندن سے حکم صادر کرتے پیں کہ اسٹیج پر کس نے بیٹھنا ہے انہوں نے کہا کہ ،نواز شریف نے بیماری کا بہانہ کر کے راہ فرار اختیار کررکھی ہے،نواز شریف سراسر مودی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے،لیڈر بھٹو جیسے ہوتے ہیں نواز شریف جیسے بگوڑے نہیں، ہمکہم سی بھیک نہیں صرف عزت کے طلب گار ہیں، ہم جی ٹی روڈ کے چوڑے نہیں بلوچستان کے باسی ہیں، ہتھکڑیاں کھول دی،نواز شریف آج سے ہمارا دشمن ہے 2010 میں نواز شریف کو کوئی پوچھتا بھی نہیں تھاجنرل قادر کے کہنے پر پی ایم ایل این میں شمولیت اختیار کی نواز شریف کو پہلے ہی کہا تھا کہ ہم عزت چاہتے ہیںنواز شریف کو یہ بھی بتایا تھا کہ بلوچستان والے  آپکو بے وفا سمجھتے ہیں، پی ایم ایل این کے لئے دن رات محنت کی،جنرل قادر بلوچ کو 2013 کے انتخابات کے بعد اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا، نواز شریف نے انتخابات سے قبل یقین دلایا کہ پارٹی جیت جائے تو حکومت ہم بنائیں گے انتخابات کے بعد نواز شریف کی بے رخی کھل کر سامنے آئی، بلوچستان کے سیاسی رفقاء نے خبردار کیا تھا کہ نواز شریف سے صرف خیر  کی توقع رکھیں انتخابات میں واضع کامیابی دلائی  اور اکثریت کے باوجود 2013 میں وزارت اعلی سے محروم کر دیا

پارٹی کے رہنماءشرہنماء سابق وفاقی وزیر جنرل عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ پاک  افواج کا نام لے کر الزامات عائد گئے گئے نواز شریف نے اپنی تقریر میں پاک فوج کے جوانوں کو بغاوت پر اکسایا گیا، مسلم لیگ کا قائد نے نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہا کہ حکم پر آئینی اور غیر آئینی دیکھا کریں، پرویز مشرف کے مارشل لا کے آئینی اور غیر آئینی ہونے کا فیصلہ سپریم کورٹ نہ کر سکی اس طرح کے بیانئیے سے فوج میں بغاوت کے بیج بوئے جاتے ہیں، اگر فوج نہ ہو تو کوئی بھی چین کی نیند نہیں سوتےبلوچستان میں قومی پرچم جلائے جاتے تھے نواب ثناء اللہ زہری کی حکومت میں امن آیا،نواب ثناء اللہ زہری اپنے فیصلے کا خود اختیار رکھتے ہیںمیں جو کچھ تھا اور جو کچھ ہوا وہ سب پاکستان فوج کی مرہون منت ہے، میں افواج پاکستان کے خلاف اس طرح کے بیانئیے دینے والی جماعت کے ساتھ رہنے کا سوچ بھی نہیں سکتا،پاک افواج میں بغاوت کے بیج بونے والوں کے ساتھ رہنے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا کسی بھی پارٹی میں شمولیت یا آزاد سیاست کرنے کا فیصلہ بعد میں کیا جائیگاسیاسی جماعتیں بلوچستان کو جاننے کی کوشش کریں، 25 اکتوبر کو پی ڈی ایم کے جلسے کے موقع پر اصولی فیصلہ کیا،نواب ثناء اللہ زہری سے صوبے سے کارکنوں کو بلا کر میری عزت بڑھائی، 2010 میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی اور 2013 میں اپنے خون کی قربانی دی، 

2013 میں تاریخ میں پہلی مرتبہ مرکزی پارٹی کے 22 ممبران نو نشست ملی، قادر بلوچ2013 میں قوم پرست جماعتوں کی حمایت کے باوجود نواب ثناء اللہ زہری کو وزیر اعلی نہیں بنایا، شہباز شریف نے 22 نشستوں کے اپنی ہی جماعت کے اکثریت کو نظر انداز کیا، تمام تر نا ناانصافیوں کے باوجود پی ایم ایل این سے جڑے رہے، نواب ثناء اللہ زہری سے وزارت اعلی چھین لی گئی لیکن پارٹی نے ساتھ نہیں دیا، بلوچستان کی نمائندگی کے لئے مرکز گئے لیکن فاٹا کا وزیر بنا دیا گیا، 10 سالہ اتحاد میں بتایا جائے ہم نے کہاں وفاداری نہیں کی جلسے سے ایک دن پہلے فون کر کے بتایا گیا کہ نواب ثناء اللہ زہری اسٹیج پر نہیں آئیں گے

Leave A Reply

Your email address will not be published.