کابل:
افغانستان میں طالبان نے بدخشاں اور بغلان صوبوں کے دارالحکومتوں کا کنٹرول بھی سیکیورٹی فورسز سے جھڑپ کے بعد حاصل کرلیا ہے اس طرح صرف 5 روز میں طالبان 34 میں سے 9 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرچکے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق طالبان نے صوبے بدخشاں اور صوبہ بغلان کے دارالحکومتوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ قبل ازیں فراہ کی صوبائی کونسل کی رکن شہلا ابوبر نے غیر ملکی خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان افغان سیکیورٹی فورسز سے مختصر جنگ کے بعد فراہ شہر میں داخل ہوگئے ہیں اور انہوں نے گورنر ہاؤس، پولیس ہیڈکوارٹرز اور صوبے کی مرکزی جیل پر قبضہ بھی کرلیا ہے۔
فراہ پر قبضے کے نتیجے میں طالبان کو ایران سے متصل ایک اور سرحدی گزر گاہ پر بھی کنٹرول حاصل ہوگیا ہے۔ ادھر افغان فورسز شہر سے باہر ایک فوجی اڈے کی طرف پسپا ہوگئی ہیں۔ پل خمری پر بھی زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے کی لڑائی کے بعد طالبان قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
رواں ہفتے کے شروع میں جنگجوؤں نے قندوز اور تخار کو فتح کیا تھا۔ اب ان کا کابل کو بدخشاں سے ملانے والی 378 کلومیٹر طویل سڑک پر تقریبا مکمل قبضہ ہوچکا ہے۔ یہ شاہراہ مسافروں کی نقل و حمل اور تجارت کا بنیادی ذریعہ ہے۔
یہ خبر پڑھیں : افغانستان کا دفاع کرنا اب افغان فوج کا کام ہے، امریکی صدر
الجزیرہ کے مطابق پل خمری کی فتح اس لیے اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ شہر کابل سے قریب ہے اور اس کا مطلب ہے کہ جنگ اب ملک کے دارالحکومت کے دروازے پر دستک دے رہی ہے جو افغان حکومت کےلیے پریشانی کی بات ہے۔ طالبان نے ملک کے 34 میں سے 8 صوبائی دارالحکومتوں پر ہفتے بھر میں قبضہ کیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان کا 65 فیصد ملک پر قبضہ ہوچکا ہے
[…] […]
[…] […]