بلوچستان کے اپوزیشن جماعتوں کے بعد اسپیکر بلوچستان اسمبلی بھی وزیر اعلی بلوچستان سے ناراض ہوگئے.. قدوس بزنجو کہتے ہیں میری خاموشی کو مجبوری نہ سمجھا جائے خاموش اس لیئے رہا شاہد وزیراعلی صوبے اور پارٹی کی بہتری کےلئے کچھ کریں لیکن انھوں نے کچھ نہیں کیا
اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو نے صحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تین سال سے وزیراعلی جام کمال میرے حلقے مسلسل مداخلت کررہےہیں میں خاموش اس لیئے رہا تاکہ پارٹی اور حکومت کو کوئی نقصان نہ پہنچے ان کا کہنا تھا کہ میری خاموشی کو مجبوری سمجھا گیا میں خاموش رہا کہ شائد وقت کے ساتھ وزیراعلی چیزوں کو بہتر کریں گے لیکن دن بدن حالات بہتری کی بجائے ابتری کی طرف گئے اسپیکر بلوچستان کا کہنا تھا کہ اب خاموش نہیں رہونگا پارٹی کو کوئی نقصان پہنچا تو ذمہ دار جام کمال ہونگے مجھ سمیت پارٹی کے بہت سے ارکان وزیراعلی کے رویہ سے نالاں ہیں کیونکہ وزیراعلی اپنی ہی جماعت کے لوگوں کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ بی اے پی بنانے کا مقصد بلوچستان کے عوام کی خدمت کرنا تھا وزیر اعلی جام کمال کے رویہ کے باعث پارٹی محدود ہوکر رہ گئی جو مجھ سمیت پارٹی کے تمام بانی اراکین کےلئے نقصاندہ ہے