جنسی زیادتی کے بعد ایک اور معصوم بچہ قتل۔قاتل کئے بچے کوبغیر کفن کے دفن کرنے کی کوشش اطلاع ملنے پر ڈپٹی کمشنر مستونگ میجر(ر)الیاس کبزئی کی ہدایت پر فوری کامیاب کاروائی ایک ملزم گرفتار لاش برآمد۔دس روز قبل درندہ صفت قاتلوں نے کوئٹہ کے کلی رئیسانی سے ایک آٹھ سالہ معصول بچہ نصیب اللہ ولد محمدقسیم ساکن مغربی بائی پاس کوئٹہ سے اغواہ کرکے پٹیل روڈ پرزیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد تشدد کرکے قتل کیااور معصوم بچے کی لاش کو ظالم قاتل نے تحصیل دشت کے علاقہ کلی حسنی کے قبرستان میں بغیر کفن کے دفن کرنے کی کوشش کررہاتھا ۔ڈپٹی کمشنر مستونگ میجر رٹائرڈ محمدالیاس کبزئی نے اسسٹنٹ کمشنر دشت کو فوری کاروائی کرتے ہوئے موقع پر پہنچ کر ایک ملزم کو گرفتارکو کر کے لاش کو ضروری کاروائی کےلئے ہسپتال منتقل کردیا اور ملزم سے تفتیش شروع کردی ملزم سے تفتیش میں ملزم نے بیان دیتے ہوئے بتایاکہ میرے دوستوں نے زیادتی کے بعد قتل کیا اور مجھے کہا کہ آپ کو 5000 ہزار دینگے اسے اکیلا لےجا و اور کسی قبرستان میں دفن کرو ملزم نے مزید بتایا کہ بچے کو دس روز قبل معصوم بچے کو کلی رئیسانی کوئٹہ سے ملک ودود نامی شخص نے اٹھایااور پٹیل باغ روڈ پر واقع ملک باری کاکڑ کی جگہ پر رکھا۔جہاں پر گل عرفان زبیر اور جلیل نے بچے کو قتل کیا۔۔ضلعی انتظامیہ نے بچے کے ورثا اور ایس پی سریاب سے رابطہ کیا اور ایس پی سریاب کوابتدائی میڈیکل رپورٹ تحقیقاتی رپورٹ اور گرفتار ملزم حوالے کردیا۔