مینار پاکستان پر لڑکی کو ہراساں کرنے کے معاملے پر سوشل میڈیا ردعمل

صوبائی دارالحکومت لاہور میں مینار پاکستان پر ایک خاتون کو سینکڑوں افراد کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر منگل کو شیئر کی جانے والی اس ویڈیو کے آنے کے بعد یہ بحث ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے کہ آیا ملک کے بڑے شہروں میں بھی خواتین محفوظ نہیں ہیں۔

لاہور پولیس نے مقدمے کے اندراج اور اس میں ’سخت دفعات‘ کا اضافہ کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں جن میں ویڈیو کلپس کے سہارے سے ملزمان تک پہنچا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا اظہر مشوانی نے کہا ہے کہ عاشورہ پر ڈیوٹی کے باوجود پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لیے ویڈیو اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے۔ ’ایف آئی آر میں سخت اور ناقابل ضمانت جرائم کی دفعات شامل کر دی گئی ہیں۔‘

Leave A Reply

Your email address will not be published.