سیکرٹری پاور ڈویژن جنوری میں گیس کے پریشر میں مزید کمی کی نوید سنارہے ہیں
رواں سال پنجاب میں 7ہزار اور 4سالوں میں 14ہزار خواتین کی بے حرمتی کی گئی
لاہور: امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی گیس کی قلت بھی بڑھ گئی ہے۔
ایک طرف عوام کو گیس دستیاب نہیں تو دوسری طرف سیکرٹری پاور ڈویژن نے 15جنوری سے گیس کی فراہمی میں مزید کمی کا عندیہ دے کر عوام کو پریشان کردیا ہے۔ پہلے ہی ایس ایس جی سی کے سسٹم میں 200ایم ایم سی ایف ڈی کی کمی کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز منصورہ میں مختلف عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی قلت سے ملک میں 200سے زائد ٹیکسٹائل ملز بند ہوچکی ہیں۔ مزدور بے روزگار ہونے سے ان کے گھروںمیں فاقے ناچ رہے ہیں جبکہ حکمرانوں نے بے حسی کی چادر اوڑھ ہو کر رکھی ہے۔ گھریلو صارفین بھی سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے علاقوںمیں گیس لوڈ مینجمنٹ پر عمل در آمد نہیں ہورہا۔ حکام اس حوالے سے نوٹس لیں۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنا کسی بھی حکومت کا بنیادی فریضہ ہوتا ہے مگر تحریک انصاف نے عوام کے مسائل پر توجہ دینے کی بجائے ڈنگ ٹپائو اقدامات کئے ہیں۔محمد جاوید قصوری نے وفاقی وزارت انسانی حقوق کی رپورٹ جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ’’4سال میں 14ہزار خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے‘‘ پر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کارکردگی شرمناک ہے ۔ روزانہ اوسطاً 10خواتین کو نشانہ بنایا جارہا ہے مگر مجرمان قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ حکومت صرف قانون بناتی ہے مگر اس پر عملدر آمد نہیں کرواتی۔ صرف پنجاب میں رواں سال خواتین کے ساتھ زیادتی کے 7ہزار سے زائد واقعات ہوچکے ہیں ،مگر بزدار حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے عیاں ہے ۔