اپیل کے جواب میں، امریکہ کا اس سال افغانستان کے لیے ابتدائی امدادی پیکج میں 308 ملین ڈالر سے زیادہ دینے کا وعدہ
نیو یارک: اقوام متحدہ کے اداروں نے رواں سال کے دوران افغانستان کے لیے انسانی امداد کے تحت چارارب 40 کروڑڈالر کی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ ک کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اپیل کردہ رقم ملک کے جی ڈی پی کا قریباً ایک چوتھائی ہے اور یہ کسی ایک ملک کے لیے اب تک کی سب سے بڑی اپیل ہے۔ اقوام متحدہ کی اپیل کے جواب میں، امریکہ نے اس سال افغانستان کے لیے ابتدائی امدادی پیکج میں 308 ملین ڈالر سے زیادہ کا وعدہ کیا ہے۔ریاستہائے متحدہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی یو ایس ایڈ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ رقم کمزور لوگوں کے لیے خوراک اور غذائیت، صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات، موسم سرما کے پروگراموں اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے فراہم کی جائے گی۔ مطابق یہ رقم 2021 میں امریکا کی حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے کے وقت موصول ہونے والے اعداد وشمار سے تین گنا زیادہ ہے۔اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ مارٹن گریفیتھس نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم عالمی برادری کے سامنے ایک صورتحال کو رکھ رہے ہیں، جس کے بغیر جنگ زدہ ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے منصوبے پیش کیے گئے ہیں، جس سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ امداد براہ راست ضرورت مند لوگوں کو ملے اور حکام کے ہاتھ نہ لگے۔