کوہلو: تفصیلات کے مطابق کوہلو کے سماجی نوجوان ایڈوکیٹ خلیل مری اور دیگر عوامی حلقوں نے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے پنجگور و نوشکی میں ہونے والے واقعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے بلوچستان بھر میں چیک پوسٹوں پر چیکنگ کے نام پر عوام کی تزلیل شروع کی ہے اور یہی عمل ضلع کوہلو میں بھی جاری و ساری ہے بلوچستان ضلع کوہلو کے مرکزی بازار کے دونوں اطراف ایف سی نے عرصہ دراز میں چیک پوسٹس لگا رکھیں ہیں پنجگور و نوشکی واقعات کے بعد مذکورہ چیک پوسٹس ہر آنے و جانے والے مقامی شہریوں کی تلاشی لے رہی ہیں اس کے علاہ آس پاس کے تمام گاڑیوں کے انٹری لیں رہے ہیں انہوں کہا کہ سیشن کورٹ، ڈسٹرکٹ ہسپتال اور دیگر سرکاری دفاتر سٹی ایریا سے دور ہیں اس وجہ سے دن میں کئی دفعہ اس چیک پوسٹ پر گزارنا پڑتا ہے اور ایف سی اہلکار ہر دفعہ چیکنک و گاڑیوں کی انٹری کروا رہے ہیں جس سے عدالتی کاموں سمیت دیگر کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ کوہلو ایک قبائلی اور پرامن علاقہ ہے ہر دفعہ گاڑیوں کی انٹری لیکر مقامی شہریوں کے دن میں دس دفعہ تلاش لیکر سکیورٹی فورسز اور عوام کے درمیان بدزبانی، بدگمانی اور نفرتیں پیدا ہو رہے ہیں، کوہلو کے سماجی نوجوان ایڈوکیٹ خلیل مری اور عوامی حلقوں نے مذکورہ چیک پوسٹوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا سیکورٹی کے نام پر عوام کی تزلیل فوری بند کی جائے۔