اپوزیشن کے پاس تحریک عدم اعتماد کے لیے نمبرز پورے نہیں ہیں گورنر سندھ

گورنر سندھ عمران اسماعیل کا تحریک عدم اعتماد سے متعلق دعوی
اسلام آباد: گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد سے متعلق دعوی کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے پاس تحریک عدم اعتماد کیلیے نمبر پورے نہیں ہیں۔ گورنر سندھ نے کہا ہے کہ پاکستان کے ادارے وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہیں، وہاں سے نہ کوئی اشارے آتے ہیں، نہ ہی فون جاتے اور آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان 9 مارچ کو کراچی آئیں گے اور ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کریں گے۔ عمران اسماعیل نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں اور آئندہ بھی اچھے رہیں گے، وزیراعظم اتحادیوں سے ملاقات کرتے ہیں، چوہدری شجاعت سیبھی ملاقات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کیلئے میں نے وزیراعظم سے بات کی ہے، ایم کیو ایم ہماری حکومت کیساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے، متحدہ قیادت کے کوئی مطالبات نہیں ہیں۔یاد رہے کہ گذشتہ روز ایک بیان میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے دعوی کیا کہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کے لیے نمبر صرف پورے نہیں ضرورت سے زیادہ ہیں۔سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر 80 سے زائد اراکین کے دستخط ہیں۔ لوگ آرہے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی ٹکٹ کیساتھ گئے تو عوام اچھا سلوک نہیں کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ لینے دینے والی سیاست ناکام رہی ہے، سیٹ ایڈجسٹمنٹ الیکشن میں ہوتی ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ حتمی فیصلہ ہوجائے تو تحریک پیش بھی کردیں گے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما سابق صوبائی وزیر پنجاب رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تحریکِ عدم اعتماد لانے میں دیر ہو سکتی ہے لیکن جب آئے گی تو کامیاب ہو گی۔رہنما ن لیگ رانا ثنا اللہ نے دعوی کیا کہ حکومت کے پاس اس وقت ٹوٹل 7 ووٹوں کی اکثریت ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن تحریکِ عدم اعتماد لانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ق کے رہنما طاہر بشارت چیمہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات میں تحریکِ عدم اعتماد پر بات نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتحادی ہم سے خود ملاقات کرنے آ رہے ہیں، بی اے پی اور ایم کیو ایم سے بھی ہماری کئی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کا مسودہ تیار کرلیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.