ملک میں احتساب کا نیا ادارہ بنانا ہو گا،اتحادی حکومت کے درمیان اس حوالے سے مشاورت جاری ہے
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی گفتگو
اسلام آباد: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ حکومت کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے تاہم اسمبلیاں توڑنا مسئلے کا حل نہیں، معیشت کو استحکام دینا ہو گا۔انہوں نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتساب کا حال دیکھنا ہے تو عدالتوں میں آکر دیکھیں، لوگوں کی تذلیل کے لیے جھوٹے کیسز بنائے گئے۔ملک میں احتساب کا نیا ادارہ بنانا ہو گا، اتحادی حکومت کے درمیان اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے کیسز بے شک چلتے رہیں، عمران خان بھی اپنے کیسز کا سامنا کریں اور چئیرمین نیب بھی عدالتوں کے سامنے پیش ہوں۔قبل ازیں سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اسمبلیاں تحلیل کرنا موجودہ معاشی بحران کا حل نہیں ہے۔قومی احتساب بیورو (نیب) اسلام آباد کے دفتر کے باہر میڈیا نمائندگان کی طرف سے معاشی بحران پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ حکومت کے ساتھ بیٹھ کر معاشی بحران کا حل اخذ کریں جبکہ حکومت معاملات پر قابو پانے کے لیے سخت محنت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتی جب تک تمام سیاسی جماعتیں ایک میز پر بیٹھ کر گفتگو نہیں کرتیں۔سابق وزیر اعظم کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب روپے کی قدر میں بڑی کمی آئی ہے اور اسٹاک مارکیٹ کو ایندھن پر سبسڈی کو برقرار رکھنے کے حکومتی فیصلے کی وجہ سے گراوٹ کا سامنا ہے، جس کا سابق حکومت نے آغاز کیا تھا،عین اسی وقت سابق وزیر اعظم عمران خان مسلسل اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ نئے اتنخابات ہی معاشی بحران کا واحد حل ہیں۔شاہد خاقان عباسی نے دعویٰ کیا کہ موجودہ معاشی تباہی چار برس پہلے شروع ہوئی جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آئی۔انہوں نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان میں معاشی بدحالی کا ذمہ دار واحد شخص عمران خان ہے اور آپ حکومت سے یہ توقع نہیں کر سکتے کہ جو چیزیں آپ نے تباہ کیں وہ موجودہ حکومت فی الفور ٹھیک کردے