سابق صدر و آرمی چیف پرویز مشرف کو وطن واپس لانے کا فیصلہ

پرویز مشرف کی صحت کے پیش نظر ان کی پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا‘ حکومت کو بھی اس حوالے سے آگاہ کردیا
صدر آل پاکستان مسلم لیگ افضال صدیقی کی گفتگو
اسلام آباد: سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کو وطن واپس لانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔پرویز مشرف کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر افضال صدیقی نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کی صحت کے پیش نظر انہیں پاکستان لے جانے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں حکومت پاکستان کو بھی آگاہ کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق صدر چک شہزاد میں واقع اپنے فارم ہاؤس میں رہائش اختیار کریں گے جہاں وہ جلد صحت یاب ہوجائیں گے جس کی ہمیں امید بھی ہے اور دعا بھی کر رہے ہیں لیکن جہاں تک ان کی صحت کا تعلق ہے تواس وقت وہ زیادہ ٹھیک نہیں ہیں انہیں دعاؤں کی ضرورت ہے۔ خیال رہے کہ میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ سابق صدر و آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف زندگی کے آئندہ ایام پاکستان میں گزارنے کے لیے وطن فوری واپسی چاہتے ہیں، قریبی رفقاء پرویز مشرف کی اس خواہش کے بعد متحرک ہو گئے ہیں وہ پس پردہ رابطوں میں وفاق و مقتدر حلقوں سے اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ پرویز مشرف کی پاکستان واپسی کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور قانونی معاملات کو فوری دور کریں، اگر اس معاملے میں کوئی پیش رفت ہوئی تو امکان ہے کہ سابق صدر کی وطن واپسی کے لیے کوشش شروع ہو سکتی ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پرویز مشرف کے قریبی ساتھی ڈاکٹر محمد امجد نے تصدیق کی کہ پرویز مشرف فوری طور پر وطن واپسی کے خواہشمند ہیں، ان کے اہلخانہ سابق صدر کی واپسی کے لیے فوری اقدام کے منتظر ہیں، ان کے اہم ساتھی اور چاہنے والے سابق صدر کی وطن واپسی کے لیے اپنے طور پر اہم حکومتی اور طاقتور حلقوں سے رابطوں میں کوشش کر رہے ہیں کہ پرویز مشرف کو واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔واضح رہے کہ پرویز مشرف گزشتہ تین ہفتوں سے ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور انہیں لاحق بیماری ’امائلائیڈوسس (Amyloidosis) کی وجہ سے پیچیدگیوں کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے پرویز مشرف انتہائی علیل ہیں اور وہ بیماری کی خطرناک اسٹیج پر پہنچ چکے ہیں، ان کے اہل خانہ کی جانب سے پرویز مشرف کی صحت یابی کے لیے دعا کی اپیل بھی کی گئی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.