غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں سن کوٹہ کے نام پربلوچستان کے نوجوانوں کو بیوقوف بنایا گیا، محمد عمر جتک
کو ئٹہ: محکمہ ایریگیشن بلوچستان میں سن کوٹہ اور لواحقین کے نام پر سیاسی بھر تیاں کرکے قوانین اور عدالت احکامات کی خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔ سیکرٹری ایریگیشن بلوچستان اور صوبائی وزیر آبپاشی چند پاکٹ ایسوسی ایشن کے جعلی نمائندوں سے مبارکباد وصول کررہے ہیں ایسی غیر قانونی بھرتیاں کسی بھی وقت ابالش ہوجائیں گی کیونکہ یہ جعلی بھرتیاں ہیں ماضی میں بھی ایسی بھرتیوں کی انکوائری کئی محکموں میں جاری ہے اور بھرتی ہونیوالے آئے روز احتجاج کرتے نظر آتے ہیں
ان خیالات کا اظہار پاکستان کینال لیبر یونین بلوچستان کے صدر محمد عمر جتک ملازمین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے محکموں میں دوران ڈیوٹی فوت ہونے والے ملازمین و مزوروں کے سن کوٹہ پر بھرتی کا کیس سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے انہوں نے کہا کہ 2019 میں محکمہ ایریگیشن میں 50 پوسٹیں مشتہر کی گئیں اور اسی اشتہار کو بنیاد بناکر 2022 میں راتوں رات 500 جعلی افراد کو بھرتی کیا گیا اور ان سیاسی اور چمک دمک کے عوض کی جانیوالی بھر تیوں کو سن کوٹہ کا جھوٹا نام دیا گیا ہے اس سارے عمل میں محکمہ ایریگیشن کی معطل شدہ بلوچستان ایریگیشن ایمپلائز یونین کے جعلی نمائندے ملوث ہیں
انہوں نے کہا کہ محکمہ کا ایک موجودہ انڈر سیکرٹری جو سابقہ ایس او گزشتہ دس سال سے محکمہ کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اس مزکورہ افسر نے ان نئی بھرتیوں کیلئے جعلی نمائندوں کیساتھ مل کر غیر قانونی بھرتیوں کیلئے کمر کس لی ہے جبکہ میرٹ پر آنیوالے غریب نوجوان محکمہ میں بھرتی ہونے کیلئے ایریگیشن کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ لواحقین کی پوسٹوں پر بھرتی کا غیر قانونی عمل روک کر اسے شفاف بنایا جائے ماضی میں ایسی غیر قانونی بھر تیوں کی وجہ سے پٹ فیڈر کینال تباہ ہوگیا جس کا خمیازہ آج کسان اور غریب کاشتکار بھگت رہ ہیں۔ پٹ فیڈر کے نو گو ایریا میں غیر مقامی لوگوں کی بھر تی سے پٹ فیڈر تباہ ہوا کیونکہ یہ ایسا دور دراز علاقہ ہے جہاں صرف وہاں کے مقامی افراد ہی پانی کی نگرانی کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے سیکرٹری ایریگیشن فتح محمد بھنگر سے مطالبہ کیا کہ حالیہ غیر قانونی بھرتیوں کی فوری شفاف انکوائری کرائی جائے اور اس سے قبل انڈر سیکرٹری غلام سرور کو او ایس ڈی کیا جائے تاکہ وہ مزید محکمہ ایریگیشن میں غیر قانونی اقدامات اور من مانی نہ کرسکے انہوں نے کہا کہ ایریگیشن پرموشن کی پوسٹوں پر براہراست اور لواحقین کے نام سیاسی اور رشوت کے تحت بھرتیوں پر دیگر محکموں کی انتظامیہ پر سوالات اٹھ چکے ہیں اگر سیکرٹری ایریگیشن لواحقین سن کوٹہ کے نام پر بھرتی کررہے ہیں تو دیگر بڑے محکموں کی یونینزاور فیڈریشن اس عمل کو لیکر عدالتوں سے رجوع کریں گی کہ قانون و رولز کے تحت محکمہ ایریگیشن میں بھرتیا ں ہورہی ہیں ہم بیروزگار ی کے خاتمے کے مخالف نہیں اب دیگر محکموں کے فوت ہونیوالے اور ریٹائرڈ ہونیوالے ملازمین کے بچے اور حقیقی ورثا یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ محکمہ ایریگیشن کی طرح دیگر محکمے بھی لواحقین(سن کوٹہ)کی بھر تی کریں