دونوں ممالک دہشت گردی اور علاقائی عدم تحفظ کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہیں، پریس کانفرنس
تہران :ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ایران اور عراق خطے میں امن و استحکام کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔ دونوں ممالک دہشت گردی اور علاقائی عدم تحفظ کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطاابق ایرانی صدر نے یہ بات عراق کے نئے وزیر اعظم ‘محمد شیعہ السوڈانی’ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہو ں نے کہا ایران اور عراقی حکومت کے نقطہ نظر سے، خطے میں سلامتی، امن و استحکام بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا ہم دہشت گرد گروہوں، منظم جرائم، منشیات کی اسمگلنگ اور خطے کے لیے خطرہ بننے والے کسی بھی عدم تحفظ کے خلاف جنگ کے لئے پرعزم ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ صرف خطے کے ممالک کو ہی علاقائی سلامتی، استحکام اور امن کو یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا خطے میں غیر ملکی افواج کی موجودگی سے سلامتی بالکل نہیں آتی بلکہ یہ ہمارے اندرونی مسائل کے علاوہ ایک مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ افغانستان اور عراق میں امریکی موجودگی سلامتی کو فروغ دینے میں ناکام رہی ہے بالکل اسی طرح خطے کے دیگر حصوں میں بھی غیر ملکی ا فواج کی موجودگی کا کوئی نتیجہ نہیں نکل پائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ تہران اور بغداد کے درمیان تعلقات کی جڑیں دونوں ممالک کے عقائد پر ہیں اور امید ظاہر کی کہ دونوں فریق ثقافتی، سیاسی، سماجی اور سیکورٹی تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں عراقی وزیر اعظم کی موجودگی دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم موڑ ہے اور یہ مذاکرات یقینی طور پر تعلقات کی بہتری کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں ۔ایرانی صدر نے کہا کہ اقتصادی، تجارتی، مالیاتی اور بینکنگ کے مسائل نیز بجلی اور گیس کی برآمدات بھی دونوں فریقین کے وفود کے درمیان ہونے والی بات چیت کے ایجنڈے میں شامل ہیں