الیکشن کمیشن کیلئے کوئی بھی سیاسی جماعت یا سیاستدان پسندیدہ نہیں ہے ،چیف الیکشن کمشنر

فیصلوں میں غلطی ہوسکتی ہے تاہم متاثرہ فریق کیلئے عدالتوں کے راستے کھلے ہیں ،
کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ چیف الیکشن کمشنر بنوں گا، جنہوں نے میرا نام منتخب کیا تھا انہیں معلوم تھا کہ میں کیسا ہوں کوئی بھی صوبہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتا تھا، تقریب سے خطاب

اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہاہے کہ الیکشن کمیشن کیلئے کوئی بھی سیاسی جماعت یا سیاستدان پسندیدہ نہیں ہے ہمارا کام آئین اور قانون کے مطابق صاف ،شفاف انتخابات کا انعقاد اوردھاندلی کو روکنا ہے سیاسی جماعتیں ملکی ترقی اور جمہوریت کی بقاء کیلئے الیکشن کمیشن کا ساتھ دیں ،الیکشن کمیشن سے فیصلوں میں غلطی ہوسکتی ہے تاہم متاثرہ فریق کیلئے عدالتوں کے راستے کھلے ہیں ،انتخابات میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے مخالف نہیں ہیں تاہم جلد بازی میں پورے انتخابی عمل کو مشکوک بنانا ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ووٹرز ڈے کی مناسبت سے منعقدہ تقریب اور صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی ملاقات کے موقع پر کیا تقریب الیکشن کمیشن کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوئی تقریب میں غیر ملکی سفارتکاروں کے علاوہ انتخابی عمل میں الیکشن کمیشن کی معاونت کرنے والے اداروں کے سربراہان سمیت سول سوسائٹی اور دیگر شخصیات نے شرکت کی تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان نے الیکشن کمیشن کی مجموعی کارکردگی کا تفصیل سے احاطہ کیا بعداز اںچیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ کمیشن نے ملکی سطح پر ہونے والے قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلیوں اور اس کے بعد بلدیاتی انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی پابندی کے سلسلے میں موثر اقدامات کئے اور کسی افسران سمیت سیاسی جماعتوں کے امیدواروں اور حکومتی شخصیات کے خلاف کاروائیاں کی اور اسی وجہ سے کئی حکومتی وزرا کو ضمنی انتخابات سے قبل حلقوں میں انتخابی عمل میں حصہ لینے کیلئے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا پڑا انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے پورے ملک میں بلدیاتی انتخابات کرانا ایک بڑا چیلنج تھا کیونکہ کوئی بھی صوبہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتا تھا مگر ہم نے فنڈز کی قلت کے باوجود خیبر پختونخوا ،بلوچستان اور کراچی میں بلدیاتی انتخابات کامیابی سے کرائے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں انتخابات کے انعقادکے لیے 2 بار حلقہ بندیوں کا عمل مکمل کیا مگر صوبائی حکومت کے بار بار قوانین میں ترامیم کی وجہ سے انتخابات کا انعقاد ممکن نہ ہوسکااور اب یہ انتخابات اپریل کے اخری ہفتے میں ہونگے اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت پر واضح کیا ہے کہ اگر اس بار قوانین میں کوئی تبدیلی کی گئی تو الیکشن کمیشن اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے پرانے قوانین کے مطابق بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے گی ۔ نے کہا کہ حلقہ بندیوں کے لیے 3 سے 4 ماہ درکار ہوتے ہیں جب بھی حلقہ بندیوں مکمل کرکے الیکشن کے قریب پہنچتے تھے تو اْس وقت کی صوبائی حکومت اپنے لوکل گورنمنٹ قوانین میں تبدیل کردیتی تھی جس کی وجہ سے ہمیں دوبارہ حلقہ بندی کرنی پڑتی تھی۔ان کا کہنا تھا الیکشن کمیشن تیسری بار حلقہ بندی کے لیے اقدامات اٹھا رہا ہے، کمیشن صوبہ پنجاب میں بھی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے صوبائی حکومت کو پابند بنایا جائیگا کہ وہ الیکشن کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کریں اور ضروری فنڈ بھی مہیا کریں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران قومی اسمبلی کے 17 اور صوبائی اسمبلی کے 24 انتخابات کروائے گئے، عموماً یہ تاثر ہے کہ ضمنی الیکشن حکومت جیتا کرتی ہے لیکن کْل ضمنی انتخابات میں سے پینتیس اْس وقت کی اپوزیشن نے جیتے اور 16 اْس وقت کی حکومت نے جیتے انہوں نے کہا کہ تمام ضمنی انتخابات کے دوران الیکشن اکمیشن نے ضابطہ اخلاق پر عمل کو یقینی بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر اور مانیٹرنگ ٹیموں کی تعیناتی اور انتخابات کی سخت مانیٹری کی گئی اور خلاف ورزی کرنے کی صورت میں کارروائی بھی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 5 اگست 2022 کو شائع کرلی گئی ہے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اب ڈیجیٹل حلقہ بندیاں کرانے کا سوچ رہی ہے ،ہم نے بار ہا درخواست کی کہ ہمیں کم از کم 6 سے 7 ماہ حلقہ بندیوں کے لیے درکار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں وقت نہیں دیا گیا تو دوبارہ حلقہ بندیاں کرانا مشکل ہوجائے گا۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابی عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی حمایت کرتا ہے لیکن ٹیکنالوجی ایسی ہونی چاہیے کہ تمام اسٹیک ہولڈز متفق ہوں ، ووٹرز اپنے حق رائے دہی آسانی سے استعمال کرسکیں اور خفیہ کو یقنینی بنایا جا سکے۔سکندر سلطان راجہ نے بتایا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کیے لیے چند اقدامات اٹھائے گئے ہیں انہوں نے کہاکہ ای وی ایم اور اوویرسیز ووٹنگ کے حوالے سے الیکشن کمیشن پر بہت تنقید ہوتی ہے ، میں چیلنج کرتا ہوں کہ آپ کہیں دکھا دیں کہ الیکشن کمیشن نے ای وی ایم یا اوویسرز ووٹنگ کی مخالفت کی ہو، ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ جلد بازی میں پورا الیکشن متنازع بنا دیںانہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے الیکٹرانیک ووٹنگ مشینوں کی خریداری کیلئے ٹینڈر جاری کردئیے ہیں اور ان مشینوں کی خریداری کے بعد کسی بھی ضمنی انتخاب یا بلدیاتی انتخابات میں ان مشینوں کو تجرباتی طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے انہوں نے کہاکہ ٹی وی شوز میں بیٹھ کر ایسے لوگ بھی ای وی ایم کے حوالے سے الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہیں جن کو جدید ٹیکنالوجی کی اے بی سی سے بھی واقفیت نہیں ہے انہوں نے کہاکہ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کیلئے انٹرنیٹ ووٹنگ کے منصوبے پر بھی نادرا کے ساتھ مل کا کام جاری ہے اور اس حوالے سے بھی جلد معاہدہ ہوجائیگا انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن اگلے عام انتخابات کے انعقاد کیلئے مکمل طور پر تیار ہے ہمارے لئے کوئی بھی سیاسی جماعت یا لیڈر اپسندیدہ نہیں ہے الیکشن کا کام آئین اور قانون کے مطابق صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد کرانا ہے اور ہم اپنی آئینی ذمہ داری کو ہر صورت پورا کریں گے بعدازاں صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ چیف الیکشن کمشنر بنوں گا انہوںنے کہاکہ جنہوں نے میرا نام منتخب کیا تھا انہیں معلوم تھا کہ میں کیسا ہوں کمیشن کے تمام فیصلے مشاورت کے ساتھ ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب تک کسی بھی فیصلے میں کسی بھی ممبر نے اختلاف نہیں کیا ہے انہوں نے کہاکہ میرے دفتر کے دروازے تمام سیاسی رہنمائوں کے لئے کھلے ہیں ہم کسی بھی سیاسی جماعت کی تنقید سے نہیں گھبراتے ہیں انہوں نے کہاکہ بذات خود میں تو تنقید سے خوش ہوتا ہوں ہم نے الیکشن کمیشن کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے اور اس کی نیک نامی کا سبب بنے ہیں انہوںنے کہاکہ الیکشن کمیشن پر کسی بھی سیاسی جماعت یا حکومت کی جانب سے کوئی دبائو نہیں ہے ہم نے تمام فیصلے میرٹ پر دئیے ہیں تاہم اگر کسی کو بھی ہمارے فیصلوں سے اختلاف ہے تو اس کے پاس عدالتوں میں جانے کے دروازے کھلے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.