لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں آٹا عام لوگوں کی دسترس اور قوت خرید سے باہر ہو گیا ہے۔ لاہور میں چکی کا آٹا 130 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ روٹی بنانے والے آٹے کا تھیلا 1700 روپے جبکہ نان بنانے کیلئے استعمال ہونے والا فائن آٹے کے 80 کلو کے تھیلے کی قیمت بھی 9500 روپے تک ہو گئی ہے۔ ب صوبے بھر کی ضلعی انتظامیہ نے چکی کے آٹے کی قیمتوں کو ریگولیٹ کرنے سے روک دیا ہے اور کہا کہ چونکہ وہ چکیوں کو گندم کا کوئی کوٹہ نہیں دے رہے اس لیے وہ انہیں سستے نرخوں پر آٹا فروخت کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ تندور مالکان روٹی(100 گرام) اور نان (120 گرام) کی بالترتیب 14 اور 22 روپے کے سرکاری نرخوں کے بجائے اسے 15 اور 25 روپے میں فروخت کر رہے ہیں لیکن چونکہ مستقل بنیادوں پر کسی بھی قسم کی جانچ نہ ہونے کی وجہ سے وہ غریب لوگوں کو لوٹتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف آٹے اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔ لاہور چکی آٹا ایسوسی ایشن کے نمائندے محمد عبدالرحیم کے مطابق گندم کی قیمتوں میں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے وہ آٹے کی قیمت بڑھانے پر مجبور ہیں۔اس معاملے پر جب لاہور کے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر محمد امجد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام کو بڑے پیمانے پر چار ملوں پر تیار کیا جانے والا سپر فائن آٹا 648 روپے (10 کلو کا تھیلا) اور 1295 روپے (20 کلو کا تھیلا) کے رعایتی نرخوں پر فراہم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ پالیسی کے تحت ہم فلور ملوں کو ان کے کوٹے کے مطابق کنٹرول شدہ قیمتوں پر گندم دیتے ہیں جو آٹا رعایتی نرخوں پر مارکیٹ میں فراہم کرتے ہیں۔ لاہور کے ڈپٹی کمشنر محمد علی نے کہا کہ چکی آٹا لگڑری آئٹم کے تحت آتا ہے جو ہر کوئی استعمال نہیں کرتا۔ یہ ایک مہنگی چیز ہے جسے امیر لوگ استعمال کرتے ہیں، غریب نہیں اور ہم چکی آٹے کو ریگولیٹ نہیں کر سکتے کیونکہ مالکان اوپن مارکیٹ سے گندم خریدتے ہیں اور اسی قیمت پر آٹا بیچتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ بازار میں سادہ اور فائن آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود روٹی اور نان بالترتیب 14 اور 22 روپے میں فروخت ہوں۔