کراچی:سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ یہ حکومت ہر طرح سے انتخابات سے بھاگ رہی ہے ایک ادارے نے اپنی رپورٹ حکومت کو دی ہے کہ بیس سیٹیں مسلم لیگ ن اور 63 سیٹیں پی ٹی آئی اور 2 سیٹیں آصف زرداری کی پیپلزپارٹی جیت سکتی ہے حکومت کے ہاتھ پاؤں پہلے ہی پھولے ہوئے تھے اس رپورٹ کے بعد تو بالکل راہ فرار اختیار کرکے جھوٹے بہانوں کے ساتھ اسلام آباد کے الیکشن کیساتھ بھاگ گئے ہیں میں یقین سے کہتا ہوں کراچی میں بھی بلدیاتی انتخابات نہیں ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ ماہر معیشت مزمل اسلم کے ہمراہ سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
ان کے ہمراہ اراکین اسمبلی سعید آفریدی، علی عزیز جی جی، شبیر قریشی،رہنما امین اللہ موسی خیل،ڈاکٹر مسرور سیال،شعیب خان،عبدالرزاق شجراع اور دیگر رہنمابھی موجود تھے ۔
عمران اسماعیل نے کہا پانچویں دفعہ الیکشن ملتوی ہونے جارہے ہیں سندھ حکومت نے رخنا ڈال دیا ہے کہ نئی حلقہ بندیاں مکمل نہیں ہوتی تب تک انتخابات نہ کرائے جائیں سندھ حکومت کو بڑا دکھ ہے باقی سندھ کے تو انتخابات ہوگئے اسی حلقہ بندیوں پر مگر کراچی کے نہیں کرسکتے سندھ کے اربن سینٹرز کے لیے الگ اور رورل سینٹرز کے لیے الگ نظام ہے سندھ حکومت ایک نیا فلسفہ ایجاد کررہے ہیں کہ وہ کراچی کو ایک ایڈمنسٹریٹر سے چلوانا چاہتے ہیں پہلے مرتضٰی وہاب ناکام ہوئے تو اب ڈاکٹر سیف کو لگادیا گیا ڈاکٹر سیف نے میرے ساتھ پرنسپل سیکریٹری کی حیثیت سے کام کیا ہے وہ ایک ایماندار آدمی ہیں لیکن کراچی کو چلانے کے لیے صرف ایمانداری کافی نہیں ہے کراچی میں ایک منتخب میئر کی ضرورت ہے خانہ پوری کرکے ایم کیو ایم کو خوش کیا گیا اگر سب کو خوش ہی کرنا ہے تو آئسکریم بیچیں ملک کے معاشی حالات انتہائی خراب ہوچکے ہیں امپورٹ کے کنٹینرز پورٹ پر کھڑے ہوئے ہیں کل میری کراچی چیمبر کے صدر سے بات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ بینک کے پاس پیسے نہیں ہیں ایلسی ریٹائر کیلئے جنہوں نے پاکستان کو ایکسپورٹ کیا تھا وہ فریش ایلسیز قبول نہیں کررہے ہیں کیونکہ انہیں پچھلے پیسے نہیں ملے اور مال پورٹ پر پڑا ہوا سڑ رہا ہے ایکسپورٹرز کی ایکسپورٹ بالکل گرگئی ہے فارماسیٹیکل تباہی کی طرف پہنچ گئی ہے ہماری ٹیکسٹائیل انڈسٹری ختم ہونے تک آگئی ہے فیصل آباد میں لومیں نکال کر لوہے کے بھاو میں بیچ رہے ہیں ہمارے دور میں آٹا 60 روپے تک گیا تھا آج آٹا ڈبل ہوگیا ہے 200 روپے میں کراچی میں آٹا مل رہا ہے امپورٹڈ حکومت بتائے ایک ابھرتی ہوئی معیشت اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت گرانے کا کیا فائدہ ہوا پاکستان میں انتخابات کے علاوہ کوئی آپشن نہیں اس معیشت کو سنبھالنے کا ہم نے جب بھی انتخابات میں جانے کی بات کی تو ہمارے خلاف سازشوں کے پہاڑ کھڑے کیے گئے اسحاق ڈار کو یہ سمجھ کر لایا گیا کہ وہ معیشت کے جادوگر ہیں اب تو بیڑا غرق کرنے کے لیے پیسے بھی نہیں بچے شہباز شریف جو بہترین ایڈمنسٹریٹر سمجھے جاتے تھے ثابت ہوگیا ان سے زیادہ کوئی نکمہ اور نااہل شخص کوئی پاکستان میں نہیں ہے ان میں فیصلے لینے کی کوئی صلاحیت نہیں وزیرخارجہ فرمارہے تھے کہ ان کی بے انتہا کوششوں سے پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلا ہے وہ مجھے بتائیں ان کی کیا کاوشیں ہیں وہ صرف جیٹ لیکر کبھی قطر میں فٹبال دیکھتے ہیں تو کبھی لشکر لیکر جہازوں میں سرکاری خرچ پر باہر گھومتے رہتے ہیں ایک ایسا ملک جس کی معیشت کے حالات خراب ہوں تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں اس ملک کا وزیرخارجہ دوستوں ملازمین کو لیکر گھوم پھر رہا ہے 8 ماہ میں 17 دورے بلاول نے یورپ کے کیے ہیں یہ وہ بلاول ہیں جو ایک جھوٹا وصیت نامہ لیکر پارٹی پر قبضہ کرکے بیٹھے ہوئے ہیں اور والد آصف زرداری اس کے کو چیئرمین بن کر بیٹھ گئے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کا کوئی سراغ نہیں ملا نہ آج تک کوئی گواہ مل سکا ہے اس ملک کے سابق وزیراعظم پر قاتلانہ حملہ ہوتا ہے اس کا نہ مقدمہ درج ہوتا ہے نہ گواہ ملتے ہیں کیا ہم ایک ایسے پاکستان میں رہیں گے جس میں ہم اپنی خارجہ پالیسی بھی خود نہیں بناسکتے اور امریکا کو ہم اپنی ماں مانیں اور دل سے باپ مانیں ہماری امریکہ سے کوئی دشمنی نہیں ہم سب سے برابر کے تعلقات چاہتے ہیں ہر وہ خارجہ پالیسی جو پاکستان کے مفاد میں ہوگی اسے سپورٹ کرنا چاہیے نئے انتخابات ہونا یا نہ ہونا ہمارا ذاتی اندرونی معاملہ ہے مجھے اپنی عدالتوں سے امید تھی ہمیں وہاں سے رلیف ملے گا میرا کورٹوں سے معزز ججوں سے مودبانہ گذارش ہے کیا ایک منتخب حکومت کو حق نہیں وہ اسمبلی تحلیل کریں ہمیں انتخابات کی طرف جانا ہوگا ہمیں پنجاب کے پی، اسلام آباد کراچی میں انتخابات چاہیے آپ کو عمران خان کے خلاف جو مرضی کا فیصلہ چاہیے آپ الیکشن کمیشن جائیں اپنی مرضی کا فیصلہ لے لیں جس دن سے عدالت نے توشہ خانہ کا ریکارڈ مانگا ہے گھڑی کی ٹک ٹک بند ہوگئی ہے اربوں روپے کے ڈاکے انہوں نے توشہ خانہ میں مارے ہیں لسٹ آئے گی تو سب پتہ چل جائے گا توشہ خانہ کا ریکارڈ صرف سیاستدانوں تک محدود نہیں ہونا چاہے ادروں میں باجوہ صاحب کے بعد جو تبدیلیاں ہوئی ہیں امید ہے وہ پاکستان کو بچانے کے فیصلے کریں گے وہ ادارے کو کسی شخص کو بچانے کیلئے داؤ نہیں لگائیں گے پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا کہ کل محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی برسی تھی ہمیں امید تھی کے شہید کے قاتلوں کو سامنے لایا جائے گا اب تو وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اور جو ساتھ نہیں تھے وہ بھی ساتھ ہیں لیکن پھر بھی قاتل سامنے نہیں آرہے ہیں گذشتہ روز مراد علی شاہ نے ایک لطیفہ سنایا کہ بلاول وزیراعظم بنیں گے جسے یہ نہیں پتہ کے آسمان سے سیلاب آتا ہے ٹانگین کانپتی ہیں زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے جو شخص اپنی مارکیٹنگ کے لیے ملکوں میں گھوم رہے ہیں لیکن وہ سندھ میں نہیں آتے بلاول نے کہا کہ سیلاب آسمان سے آتا ہے اب سمجھ آیا 14 سالوں میں پیپلزپارٹی نے جو کام کیے بند باندھے وہ صرف ہوا میں باندھے تھے اس لیے ہمیں وہ نظرنہیں آتے کراچی میں پرانی مافیاز ایکٹو ہورہی ہیں انہیں کٹھے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ڈاکو آزاد ہیں شہری مارے جارہے ہیں شہری ڈاکوؤں اور پولیس دونوں سے پریشان ہیں کل جوہر میں نوجوان عامر کو پولیس نے گھر میں گھس کرمارا گیا ملک میں دہشتگردی ہورہی ہے پولیس منشیات قبضے کرانے میں مصروف ہے کراچی کو ڈاکوؤں کے حوالے کردیا گیا ہے قومی اسمبلی میں استعیفوں کے معاملے پر اسپیکر بھاگ گئے ہیں یہ سارے نوسرباز کٹھے ہوگئے ہیں جتنا دیر کروگے پی ٹی آئی کو فائدہ ہوگا ہم اپنا نقصان برداشت کرسکتے ہیں مگر اس ملک کا نقصان برداشت نہیں کرسکتے عمران خان مکمل ٹھیک ہونگے تو سندھ میں آئیں گے ہمارا اگلا معرکہ سندھ میں لگنے والا ہے ماہر معیشت مزمل اسلم نے کہا کہ یہ معیشت ٹھیک کرنے آئے تھے مگر اب پی ڈی ایم کہہ رہی ہے کہ معاشی حالات نئے انتخابات کرانے کے متحمل نہیں ہیں یہ لوگ اگر ابھی بھی الیکشن نہیں کرائیں گے تو پاکستان سے کوئی بھی عالمی ادارہ ڈیل نہیں کرے گا اسحاق ڈار کراچی آئے ہوئے ہیں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ وہ اسٹاک ایکسچینج کا صبح 9 بجے گھنٹہ بجارہے تھے اسٹاک مارکیٹ مائینس ہے لیکن اسحاق ڈار وہاں پر کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی معیشت پر پروپگینڈاپہیلا رہی ہے معیشت ایک ایسی چیز ہے جس پر پروپگینڈا پہیلایا ہی نہیں جاسکتا معیشت مہنگائی فارین ایکسچینج ریزرو کا ہر ہفتے ڈٰیٹا آتا ہے مارکیٹ طئے کرتی ہے ہم کہاں جارہے ہیں اور ہم اس وقت دیوالیہ کی طرف جارہے ہیں دیوالیہ کی نشانی ہے جب ہمارے کارخانے بند ہوجائیں جب آپ کوئی چیز درآمد کرنا چاہ رہے ہیں اور بینک آپ کو گھسنے نہ دے اسے دیوالیہ کہتے ہیں اب تو لنڈا بازار اور شیرشاہ بھی صاف ہوچکے ہیں حکومت آپ کو بیروزگار کرکے گھر بٹھانے والی ہے 6 ارب ڈالرز کے ہمارے ریزروز ہیں ہر ہفتے آدھا ارب ڈالر ختم ہوتا ہے اگر باہر سے رقم نہیں آئی تو پاکستان کے ریزورس 8 سے 10 ہفتوں میں ختم ہوجائیں گے ساڑھے 4 ارب ڈالر جو اسٹیٹ بینک میں لوگوں کے جمع تھے وہ بھی نکال کر حکومت کو دیے گئے ہیں 1998 میں بھی انہی کی حکومت تھی تو بینک میں لوگوں کے موجود ساڑھے گیارہ ارب روپے نکال لیے گئے اور اس پر فریز لگادیا گیا برآمدات ہم سوا تین ارب ڈالرماہانہ پر لیکر گئے تھے وہ اب ڈھائی ارب سے نیچے آچکی ہے مہینے میں 2 ارب کا نقصان رمیٹینس اور ایکسپورٹ سے کررہے ہیں لوگوں کے پاس روزگار نہیں لوگ پریشان ہیں جب ہماری حکومت تھی تو 13 جماعتیں ملکر پروپگینڈا کرتی تھی ہر آنے والا دن ملک کو نیچے لیکر جارہا ہے ہم جب آئی ایم ایف پروگرام میں گئے تو ہمیں انہوں نے پی ٹی آئی آئی ایم ایف کہا اسٹیٹ بینک بل کے خلاف انہوں نے ووٹ دیا اسحاق ڈار کو یہ لیکر آئے یہ لوگ آئی ایم ایف گئے اب ان سے کوئی بات کرنے کیلئے تیار نہیں اب ڈیمانڈ کی جارہی ہے بجلی گیس پیٹرول پر مزید ٹیکس لگائے جائیں جس سے ملک میں مزید تباہی آئے گی