حکم امتناعی اور حکومتی پابندی کے باعث 90 سے زائد لاء افسران بھاری تنخواہیں بٹورنے لگے
لاہور : ایڈوکیٹ جنرل آفس کیلئے تعینات حکم امتناعی اور حکومتی پابندی کے باعث 90 سے زائد لاء افسران بھاری تنخواہیں بٹورنے لگے۔ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد 41 جبکہ حکم امتناعی کے بعد لاء افسران کی تعداد 150 تک پہنچ گئی ۔بتایا گیا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس میں منظور شدہ لاء افسران کی تعداد 98 ہے۔نگران حکومت کے لاء افسران کی تعداد کی نسبت پی ٹی آئی حکو مت کے لاء افسران کی تعداد 2 دوگنا زیادہ ہے،یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل نے حکم امتناعی ملتے ہی پہلے حکومت کے تعینات کردہ لاء افسران سے الاٹ کی گئی عدالتیں واپس لیں ، کابینہ کی منظوری کے بعد ایڈووکیٹ جنرل سے نگران حکومت کے تعینات کردہ 56 لاء افسران کو عدالتیں الاٹ کروائیں،کابینہ نے سابقہ حکومت کے حکم امتناعی کے ذریعے بحال ہونے والے سابقہ حکومت کے 98 لاء افسران کو کام سے روک دیا، لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد کی نسبت لاء افسروں کی تعداد تین گنا سے سے بھی تجاوز کرگئی ۔ ایڈووکیٹ جنرل آفس میں بطور لاء افسران تعینات وکلاء کی تنخواہیں 5 سے 6 لاکھ تک ہیں۔سابق وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی نے لاء افسران کی منظور شدہ تعداد بڑھا کر 98 کردی تھی ۔ایڈووکیٹ آفس میں بھاری تنخواہوں پر تعینات لاء افسر افسران کی تعداد منظور شدہ تعداد 98 سے بھی تجاوز کرچکی ہے ۔ہائیکورٹ کے حکم امتناعی کے بعد برطرف 98 لاء افسران بھی بحال ہوگئے ۔ایڈووکیٹ جنرل آفس میں لا افسران کم جبکہ دفاتر اور سٹاف کی تعداد کم پڑ چکی ہے۔ایڈووکیٹ جنرل آفس کے ایک ایک کمرے میں 3، 3 لاء افسران بٹھانا مجبوری بن گیا۔حکومت نے کچھ حکومتی لاء افسران اور سٹاف کو اولڈ سیکرٹریٹ کی عمارت میں آفس کی سہولت دی گئی ہے