پیپلزپارٹی اکتوبر میں الیکشن چاہتی ہے لیکن اتحادی نہیں چاہتے

پیپلزپارٹی کو تحریک انصاف سے اتحاد کا مشورہ دیا تھا، پنجاب میں وفاقی حکومت اور بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ ہے، مرکزی رہنما پیپلزپارٹی ندیم افضل چن کی گفتگو

لاہور: پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اکتوبر میں الیکشن چاہتی ہے لیکن اتحادی نہیں چاہتے، پیپلزپارٹی کو تحریک انصاف سے اتحاد کا مشورہ دیا تھا، پنجاب میں وفاقی حکومت اور بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ ہے۔ندیم افضل چن نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ میں لوگوں کیلئے کچھ نہیں کر پا رہا، اب سیاست کو چھوڑنے کا سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں، والد کو سیاست چھوڑے 15سال ہوگئے ان پر کوئی مقدمہ بھی نہیں تھا، بھائی کو پکڑنے آئے وہ نہیں ملے تو والد کو لے گئے۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ میں پارٹی میٹنگ میں پارٹی کو تحریک انصاف سے اتحاد کا مشورہ دیا تھا، کیونکہ پنجاب میں اینٹی نواز ووٹ بہت زیادہ ہے، حکومت تک شاید گفتگو پہنچ گئی ہے اور انہیں پسند نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ اگر تین سال قبل پی ٹی آئی نہ چھوڑتا اور پی ٹی آئی میں ہوتا تو پارٹی نہ چھوڑتا، جس طرح پی ٹی آئی کو چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں میں نہیں بھاگتا۔پنجاب میں وفاقی حکومت اور بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ ہے، محسن نقوی بے بس ہیں، بیوروکریسی کی زیادہ چلتی ہے، وہ صرف ن لیگ کے کام کررہی ہے۔دوسری جانب چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سوات میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح میئر کراچی کا الیکشن جیتے اسی طرح ملک بھرمیں جیت کر دکھائیں گے، اتحادیوں سے کہتے ہیں ہمت پکڑیں آئیں الیکشن لڑیں، پیپلزپارٹی انتخابات کیلئے تیار ہے، الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں، پیپلزپارٹی کا مقابلہ کسی جماعت سے نہیں بے روزگاری سے ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ وزیراعظم کچھ اور بات کریں جبکہ بجٹ میں کوئی اور بات ہو، ن لیگ اگر چاہتی کہ بجٹ منظوری کیلئے ووٹ ڈالیں تو سیلاب متاثرین کیلئے فنڈز رکھے جائیں، اسحاق ڈار بجٹ پر ہمارے تحفظات دور کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.