بلوچستان کے ایک سیول انجنئیر نے بولان ندی کا سروے کرکے اپنے کامیاب انجنئیرنگ کا شیڈول بنا ڈالا انکا کہنا ہے کہ NHA والوں نے جتنا خرچہ کیا ہے اس سے ادھے خرچے کا ہی کام ہے ڈیم ایک ایسی رینج پر ٹارگٹ ہے جہاں پانی کو بہ آسانی کنٹرول کیا جا سکتا ہے جس سے روڈ سمیت پل محفوظ رہ سکتا ہے اور جس سے بالائی پانی کو نارمل انداز سے چھوڑا جائے پنجرہ پل بولان ندی ایک نارم کنٹرول ڈیم کے بنا ناکام ہے جس رینج میں نارمل کنٹرول ڈیم اگر بنا لیا جائے تو مستقبل کیلئے بہتر مناسب ہوگا سروے کے مطابق پنجرہ پل بنا کنٹرول ڈیم کے پھر سے بہہ جانے کا سبب بنے گا