مولانا فضل الرحمن نے آئینی مسودے میں اسلامی دفعات شامل کرکے تاریخ ساز کردار ادا کیا ، مولانا آغا محمود شاہ ،دلاور خان کاکڑ

جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے سیکرٹری جنرل سابق رکن قومی اسمبلی مولانا آغا محمود شاہ نے کہا ہے کہ قائد جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن نے آئینی مسودے میں جس مدلل انداز میں اپنا موقف حکممران جماعتوں سے مانوایا اس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیںانکی شبانہ روز محنت اور اخلاص کی وجہ سے ملک مین سودی نظام کے خاتمے پر اخری مہر ثبت کیا ، آج ملک بھر میں ہر زبان انکی ان اقدامات کا متعارف ہے چند عناصر کو ذاتی بغض و عناد کی وجہ سے یہ عظیم کامیابی ہضم نہیں ہورہی ہے مولانا فضل الرحمن اب ملت اسلامیہ کی قیادت کے موزوں ترین شخصیت بن چکے ہیں انکی جراتمندانہ موقف کو اب اغیار بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔
دراثنا ء جمعیت علماء اسلام کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات حاجی دلاورخان کاکڑ نے کہا کہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن نے حسب سابق ایک دفعہ پھر اپنے کارکنوں کے چہروں پر مسرت لایا، انکا سر فخر سے بلند کیاہمیں اپنی قیادت پر غیر متزلزل اعتماد ہے اور ہر دور میں قائد نے اپنی فہم و دنش جراتمندانہ انداز میں ملک کے عوام کی آواز بنیں ہیں انکے مدلل موقف کی بدولت حکمران جماعت نا رواہ مسودے سے پیچھے ہٹ گئے اور قائد کی سیاسی بصیرت کی وجہ سے تمام جماعتوں نے غیر متنازع آئینی مسودے پر اتفاق کیا جو بہت بڑی کامیابی ہے جس پر اللہ تعالی کے شکرگزار ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ وہ لوگ بھی سیاسی مخالفت میں قائد کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے ہیں جن کو عوام نے ہر لحاظ سے مسترد کیا وہ نہ کوئی خاطر خواہ عوامی جلسہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی کسی بھی فورم کیلئے عوام کا اعتماد پر اترے انکو قائد کی کارکردگی ہضم نہیں ہوگی تب بھی یہ لوگ علماء کی دیرینہ مطالبے کی تکمیل پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں جو لوگ راولپنڈی دھرنے کی اسان مطالبات نہیں منواسکیں وہ عصر حاضر میں عالم اسلام کے قائد کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں ان سے گزارش ہے کہ کچھ بالغ نظری کا مظاہرہ کریں اور وسعت ظرف بن کر یہ واضح حقیقت تسلیم کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.