پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تحریک عدم اعتماد سے ایک وزیراعظم کو گھر بھیجا گیا ، 2008 سے 2018 اور ساڑھے تین سال تک سوالات اور پارلیمان کی کارروائی کا ریکارڈ سامنے رکھا جائے موازنہ ہوجائے گا کہ کس کا دور ہر لحاظ سے بہتر ہوگا۔ وہ پیر کو قومی اسمبلی میں ذاتی وضاحت کے نکتہ پر اظہار خیال کر رہے تھے ۔
ایم این اے سید خورشید شاہ نے کہا کہ ایوان میں بیٹھ کر دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے ، وقفہ سوالات جاری تھا کہ پی ٹی آئی والے آ ئے اور ہنگامہ کر کے چلے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ووٹوں سے بننے والی پارلیمنٹ کی بے توقیری یہ خود کر رہے ہیں ۔ میثاق جمہوریت کے ذریعے 2008 سے 2018 تک نظر آتا تھا کہ یہ پارلیمان ہے ، وزیراعظم اور صدر مملکت باعزت طریقے سے آیا اور گیا ۔ انہوں نے کہا کہ جب ایوان میں عدم اعتماد کی تحریک کا معاملہ ہوا تو پی ٹی آئی کے لوگ ہمارے پاس آئے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن ہم نے یہ معاملہ اپوزیشن تک محدود رکھا پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عدم اعتماد سے ایک وزیراعظم گھر گیا ۔
انہوں نے کہا کہ میرا چیلنج ہے کہ 2008 سے 2018 اور ساڑھے تین سال تک سوالات اور پارلیمان کی کارروائی کا ریکارڈ سامنے رکھا جائے موازنہ ہوجائے گا کہ کس کا دور ہر لحاظ سے بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ لوگ استعفوں کے بعد دوبارہ پارلیمان میں آئے تو تمام مراعات میں نے پی ٹی آئی والوں کو لیکر دی تھی ۔