وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پاکستان میں جی ایم او چاول کی کاشت سے متعلق خبروں کی تردید

:وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق (ایم این ایف ایس آر )نے پاکستان میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اجزا ء (جی ایم او ) چاول کی کاشت سے متعلق حالیہ خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان خبروں میں پاکستانی چاول کی برآمدات میں جی ایم او بیجوں کی آلودگی کے دعوے بے بنیاد ہیں اور وزارت کے سرکاری مؤقف کی عکاسی نہیں کرتے۔پیرکو یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق یورپی یونین (ای یو ) کے ذریعے فوڈ اینڈ فیڈ کے لئے ای یو ریپڈ الرٹ سسٹم سے 2 اگست 2024 کو موصول ہونے والے ریپڈ الرٹ نوٹیفکیشن کے بعد وزارت کے ماتحت ادارہ،

محکمہ تحفظ نباتات (ڈی پی پی ) نے اس معاملے پر ایک جامع تحقیقات کا آغاز کیا۔تحقیقات کا مقصد پاکستان کے چاولی ویلیو چین کی شفافیت کو یقینی بنانا اور چاول کے نمونوں میں جی ایم او کے شواہد کی جانچ کرنا تھا۔ تحقیقات کے کلیدی نکات میں شامل ہیں کہ چاول کی پروسیسنگ یونٹس اور بیج کے ذخائر سے لئے گئے نمونوں کا تجزیہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ لیبارٹریز میں کیا گیا۔ ان لیبارٹریز میں یوروفنز اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار بایو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ فیصل آباد شامل ہیں۔ ان رپورٹس سے تصدیق ہوئی کہ پاکستانی چاول کی پیداوار اور برآمد شدہ کھیپ میں جی ایم او کی کوئی آلودگی نہیں پائی گئی۔

تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ چاول سے متعلقہ نشاندہی کردہ کھیپ کو ایک ڈچ کمپنی نے دوبارہ پیک کیا اور برآمد کیا۔ بعد ازاں جرمنی میں دوبارہ لئے گئے نمونوں میں ممکنہ طور پر پیکنگ، مارکیٹنگ یا نمونے لینے کے عمل کے دوران کراس آلودگی ہوئی نہ کہ پاکستان میں پیداوار کے دوران۔جامع تحقیقات نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کا چاولی پیداوار اور برآمدی نظام سختی سے غیر جی ایم او معیارات پر عمل پیرا ہے۔ وزارت اس بات پر زور دیتی ہے کہ بین الاقوامی غذائی تحفظ اور فائیٹو سینیٹری معیارات کی تعمیل کو یقینی بنانا اس کی اولین ترجیح ہے۔

وزارت نے یورپی یونین کے حکام سے رابطہ کیا ہے اور جانچ کے عمل اور دوبارہ پیکنگ یا مارکیٹنگ کے دوران ممکنہ آلودگی کے پوائنٹس کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔ پاکستان عالمی منڈیوں کو اعلیٰ معیار کے جی ایم او سے پاک چاول فراہم کرنے کے لئے اپنے عزم پر قائم ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.