خضدار، نرسنگ اسٹاف اور کیمل مین ملازمین تنخواہوں سے محروم، صوبائی حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ
بیروزگاری کے ساتھ تنخواہوں کی بندش، خضدار کے ملازمین فاقہ کشی پر مجبور
خضدار(یو این اے)ایک طرف بیروزگاری دوسری جانب جن کو ملازمت دیاجاتاہے تو خزانے میں ملازمین کے تنخواھیں نہیں۔ اگر تنخواہ نہیں ہے تو ملازمت پر بھرتی کیوں۔ ؟ مختلف محکمہ جات میں بھرتی ہونے والے تنخواہ سے محروم ملازمین کی دھائی۔ نرسنگ اسٹاف اور محکمہ حیوانات میں بھرتی ہونے والے کیمل مین ملازمین دربدر ٹھوکر کھانے پر مجبور۔ تنخواہوں کے آسرے پر لاکھوں روپے قرضہ کا سامنا اب بچے فاقے پر زندگی گزار رہے ہیں ۔ اعلی’ عدلیہ سے نوٹس لینے اور صوبائی حکومت سے تنخواہیں فراہم کرنے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق چار ماہ سے تعینات ہونے والے نرسنگ اسٹاف اور سولہ ماہ سے تعینات ہونے والے محکمہ حیوانات کے کی مل مین ملازمین تاحال تنخواﺅں سے محروم۔ایم پی اے خضدار۔میریونس عزیز زہری سابقہ وزیر اعلی’ بلوچستان نواب ثنااللہ خان زہری سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیںطکہ نرسنگ اسٹاف اور کیمل مین ملازمین کے تنخوائیں جاری کرنے میں کردار ادا کریں*۔محکمہ صحت خضدار میں چار ماہ قبل تعینات ہونے والے نرسنگ اسٹاف اور محکمہ حیوانات میں تعینات ہونے والے کیمل مین ملازمین فیسر شاہی کی عدم دلچسپی کے بدولت تنخواﺅں سے محروم ہیں واضح رہے کہ نرسنگ اسٹاف گذشتہ چار ماہ سے عارضی طور پر ایک سال کے لئے تعینات ہوئے ہیں جوکہ خضدار ضلع کے مختلف ہسپتالوں میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں لیکن افسوس جنھیں تاحال تنخواﺅں سے محروم رکھا گیا ہے۔تنخواﺅں کی بندش کی وجہ تمام نرسنگ اسٹاف اور کیمل مین قسمہ پرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ملازمین نےایم پی اے خضدار یونس عزیز زہری سابق وزیر اعلی’ نواب ثنااللہ خان زہری سے مطالبہ کیاہے کہ نرسنگ اسٹاف خضدار اور کیمل مین ملازمین کی تنخواﺅں کو جاری کرنے میں ذاتی دلچسپی لیکر ہمیں ذہنی کوفت سے نجات دلائیں۔