سریاب میں دماغی طور پر بیمار غوث بخش کے قتل پر نازنین شاہوانی کا احتجاج، انصاف کا مطالبہ
بااثر ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ، غوث بخش کے قتل کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر
کوئٹہ(یو این اے)کوئٹہ سریاب کی رہائشی نازنین شاہوانی نے کہا ہے کہ 19 دسمبر 2024ء کو منصوبہ بندی اور سازش کے تحت میرے چھوٹے بھائی غوث بخش جس کا دماغی توازن درست نہیں تھا میری اور بہن کے سامنے گولیاں مار کر سریاب میں شہید کردیا گیا ملزمان با اثر ہونے کی وجہ سے قانون کے گرفت سے باہر ہے پولیس کے اعلیٰ حکام اس کیس کا نوٹس لیکر ملزمان کے خلاف کارروائی کرکے حقائق منظر عام پر لائے جائیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی انہوں نے کہا کہ میرا بھائی غوث بخش کا دماغی توازن درست نہیں اور وہ برین ٹیومر ، مرگی کے مرض میں مبتلا تھا خورشید ناصر، نثار علی، باران ، عدیل اکبر ، منور ، سعید اور تین نامعلوم بندوں کے ذریعے گولیاں مار کر قتل کردیا گیا ملزمان اثر رسوخ رکھتے ہیں فیک نیوز کے ذریعے کالعدم تنظیم کا نام سے استعمال کرکے غلط بیانی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ہوم سیکرٹری بلوچستان کو صورتحال سے آگاہ کیا انہوں نے فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا لیکن اس کے باوجود بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہوم سیکرٹری کی توسط سے ڈی آئی جی کوئٹہ سے ملاقات کی اور صورتحال سے آگاہ کیا چار دن گزرنے کے باوجود سی آئی وی کے ادارہ میں تفتیشی آفیسر تعاون نہیں کررہا۔ میرے بھائی کے کیس کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان واضح طور پر بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھائی کے قتل میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچاکر مجھے انصاف دیا جائے۔