ڈی چوک احتجاج پر درج مقدمات میں گرفتار دو سو سے زائد مظاہرین کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

:انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے ڈی چوک احتجاج پر درج مقدمات میں گرفتار دو سو سے زائد مظاہرین کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ۔جمعرات کو انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابولحسنات ذوالقرنین نے 2 سو سے زائد کارکنان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ وکیل انصر کیانی نے کہا کہ ایک مقدمہ کے متن میں کہا گیا کہ فائر ہوا جو پولیس ملازم کو چھاتی پر لگا۔ وکیل انصر کیانی نے دلائل دیئے کہ تمام مقدمات کا متن تقریباً ایک جیسا ہی ہے اور کوئی بھی ملزم نامزد نہیں ہے،ہر مقدمہ میں سیاسی قیادت کو نامزد کیا گیا کسی کارکن کو نامزد نہیں کیا گیا

مدعی مقدمہ کوئی عام آدمی نہیں بلکہ ایس ایچ اوز ہیں۔پراسیکیوٹر چوہدری زاہد آصف نے دلائل دیئے کہ تمام ملزمان کو شناخت پریڈ کے بعد گرفتار کیا گیا،تمام ملزمان سے برآمدگیاں کی گئیں جو آن ریکارڈ ہیں،شہادتیں ہوئی ہیں،پولیس والے زخمی ہوئے اس پر سپریم کورٹ کی نذیر موجود ہے۔پراسیکیوٹر زاہد آصف چوہدری نے کہا کہ یہ درخواست ضمانتیں ہی قابل سماعت نہیں ہیں،خارج کی جائیں۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ ان مقدمات میں گرفتار زیادہ ملزمان کا تعلق افغانستان سے ہے جو غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، یہ وہ افغانی ہیں جو دہشت گردی ہے،پاکستان کا امن خراب کیا ہوا ہے

پراسیکیوٹر زاہد آصف کے دلائل کے دوران کمرہ عدالت میں پی ٹی آئی وکلاء اور پراسیکیوٹر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمان کے وکلاء نے دلائل دیئے میں خاموش رہا اب میرے دلائل پر مت بولیں۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.