:وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے ملکی معیشت کو مضبوط بنانے اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں مالی اداروں کے کردار پر زور دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کراچی میں پاکستان سٹیٹ بینک میں ملک کے بڑے بینکوں کے صدور سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور پائیدار ترقی کی جانب اہم قدم ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے اڑان پاکستان -قومی اقتصادی منصوبہ 29۔2024 کے دائرہ کار کے تحت مسلسل اور نمایاں مالی حمایت کی ضرورت پر زور دیا تاکہ منصوبے صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی کامیابی میں تبدیل ہو سکیں۔
پروفیسر احسن اقبال نے دنیا بھر کی کامیاب معیشتوں کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پائیدار نمو سیاسی عدم استحکام، ناکافی برآمدی حجم اور غیر جامع ٹیکس نفاذ کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے،حالیہ دور میں بہتر ہوتے ہوئے معاشی اشاریوں کی تفصیلات میں کراچی سٹاک ایکسچینج 30,000 پوائنٹس سے بڑھ کر 100,000 پوائنٹس سے زیادہ ہو گئی ہے جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی مظہر ہے، مہنگائی کی شرح کو 38فیصد سے کم کر کے 4.5 فیصد تک لایا گیا ہے جس سے عوام پر معیشت کے دباؤ میں نمایاں کمی آئی ہے،سود کی شرح کو 23 فیصد سے گھٹا کر 13 فیصد کیا گیا ہے جس سے کاروباروں اور صارفین کو ضروری ریلیف ملا ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے پائیدار ترقی کے لئے ضروری ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے ٹیکس سے جی ڈی پی تناسب میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو فی الحال 9 فیصد ہے جبکہ معاشی طور پر مضبوط ممالک میں یہ 16-18 فیصد دیکھنے میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے انسانی وسائل کے کم استعمال اور صحت کے چیلنجز کو بڑی رکاوٹیں قرار دیا، ہیپاٹائٹس سی، ذیابیطس، اور ٹی بی کی بڑھتی شرح اور بچوں کی غذائی قلت اور سکول سے باہر بچوں کی بلند شرح پر اظہار تشویش کیا۔
پروفیسر احسن اقبال نے بینک صدور سے مالی حکمت عملی کا خاکہ پیش کرنے کا کہا جس میں پاکستان کو برآمدات پر مبنی ترقی کے ماڈل کی طرف لے جانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ انہوں نے زراعت، مینوفیکچرنگ، آئی ٹی، خدمات، معدنیات، تخلیقی صنعتوں اور بلیو اکانومی کو عالمی منڈیوں میں شامل کرنے کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے بینکنگ شعبے میں گہری تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ چھوٹی اور درمیانے سائز کی صنعتوں کی مدد کی جا سکےجس سے پاکستان کی برآمدی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو اگر مناسب بینکاری معاونت فراہم کی جائے تو یہ برآمدات میں 40 سے 60 فیصد تک کا حصہ ڈال سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لئے پروفیسر احسن اقبال نے بینکاری شعبے سے خصوصی مالی مصنوعات اور خدمات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جو خاص طور پر چھوٹی اور درمیانے سائز کی صنعتوں کی ضروریات کو پورا کرے،اس میں تجارتی مالی سہولیات کو بہتر بنانا، زیادہ قابل رسائی کریڈٹ آپشنز فراہم کرنا اور برآمدی شعبے میں چھوٹی صنعتوں کے منفرد چیلنجوں کے لئے جدید بینکاری حل تیار کرنا شامل ہیں۔