:چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت میں پائیدار ترقی کے امکانات نمایاں ہیں، مہنگائی اورپالیسی ریٹ میں کمی جیسے اقدامات سے سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے،ملکی معیشت میں جاری مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں مثبت نموہوئی، گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی قومی پیداوارمیں 2.5فیصدکی شرح سے نموہوئی جو مالی سال 2023میں جی ڈی پی میں کمی کے بعدایک بڑی کامیابی ہے۔
ملکی معیشت کے اہم اشاریوں میں نمایاں بہتری کی بنیادی وجوہات میں مضبوط معاشی نظم ونسق،مہنگائی پرموثرکنٹرول اور مالی و بیرو ی کھاتوں میں استحکام ہے۔ یہ بات وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ششماہی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق حکومتی پالیسیوں، مستحکم شرحِ تبادلہ، اور عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی کی وجہ سے مہنگائی میں نمایاں کمی آئی۔جاری مالی سال کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 7.2 فیصد رہی جو گزشتہسال کے اسی عرصے میں 28.8 فیصد تھی۔
گزشتہ مالی سال کے دوران زرعی شعبے میں 6.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ کامیابی سرمایہ کاری میں اضافے، زرعی قرضوں کی فراہمی، اور سازگار موسمی حالات کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ مشینیری، سرمایہ کاری، اور پا نیکی دستیابی جیسے اشاریے زرعی شعبے کے مستقبل کے لیے مثبت اشارے فراہم کر رہے ہیں۔ صنعتی شعبہ میں میں ملاجلا رحجان دیکھنے میں آیا تاہم ٹیکسٹائل کے شعبے میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاتوازن 1.21 ارب ڈالر فاضل ریکارڈکیاگیاہے۔ ریکارڈ ترسیلات زر اور برآمدات میں زبردست کارکردگی سے بڑھتے ہوئے درآمدی بل کو متوازن بنایاگیا کیا۔
براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 20 فیصد اضافہ ہوا، جس میں بجلی اور تیل وگیس کے شعبہ میں سرمایہ کاری شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے کو جولائی تا نومبر کے دوران مجموعی قومی پیداوارکے تناسب سے 0.04 فیصد کی سطح تک محدود رکھا گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں بہترہے کامیابی ٹیکس محصولات میں اضافہ ، مستحکم ایکسچینج ریٹ اور شرح سود میں کمی کے ذریعے ممکن ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ، مہنگائی میں کمی اور مضبوط معاشی بنیادوں کی وجہ سے جاری مالی سال کے باقی عرصے میں بھی ترقی ونموکاعمل جاری رہنے کاامکان ہے حکومت زری نرمی برآمدات کے فروغ، اور نجی شعبے کی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کر نے پر توجہ دی رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ،حکومت نیحال ہی میں ”اُڑان پاکستان ” کے نام سے 5 سالہ اقتصادی تبدیلی کا منصوبہ پیش کیا ہے، جو جامع، خود ا نحصاری پر مبنی، اور حقیقت پسندانہ حکمت عملیوں پر مشتمل ہے۔ یہ منصوبہ ملک کے اقتصادی مسائل کے حل اور پائیدار ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ترسیلات زرمیں 32.8فیصد،برآمدات میں 7.2فیصد،درآمدات میں 9.3فیصد،اوربراہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں سالانہ بنیادوں پر 19.9فیصدکااضافہ ہواہے،زرمبادلہ کے ذخائر16.189ارب ڈالرہے جبکہ امریکی ڈالرکے مقابلہ میں پاکستانی کرنسی کی قدر278.71روپے ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی محصولات میں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں سالانہ بنیادوں پر25.9فیصد اورنان ٹیکس ریونیومیں 94.5فیصدکااضافہ ہوا،مالیاتی توازن اورپرائمری بیلنس میں اضافہ ہوا۔مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں زرعی شعبہ کوقرضہ جات کی فراہمی میں سالانہ بنیادوں پر8.5فیصدکااضافہ ہواہے۔پاکستان سٹاک ایکسچینج کے انڈیکس میں 78فیصدسے زیادہ اضافہ ہواہے، مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں اضافہ کی شرح 48.9فیصدریکارڈکی گئی ہے۔نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں اضافہ کی شرح 17.2فیصدرہی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت نے عالمی اور ملکی معاشی چیلنجز کے باوجود اپنی لچک اور مطابقت کو ثابت کیا ہے۔ مختلف اہم شعبوں میں مثبت پیش رفت، ہدفی اصلاحات، مالیاتی نظم و نسق، اور حکمت عملی پر مبنی مداخلتوں کے اثرات کو اجاگر کرتی ہے۔مالیاتی استحکام کے لیے مؤثر اقدامات اور محتاط قرضہ جات کے نظم و نسق کی بدولت جی ڈی پی کے مقابلے میں قرض کے تناسب میں کمی کی توقع ہے۔
بیرونی شعبے میں تجارتی توازن کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے،عالمی تجارت کی معتدل بحالی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال جیسے چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت میں پائیدار ترقی کے امکانات نمایاں ہیں۔ مہنگائی میں کمی، پالیسی ریٹس میں نرمی، اور مستحکم اشیاء کی قیمتوں نے سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ معیشت مثبت سمت میں گامزن ہے تاہم ڈھانچہ جاتیعدم توازن، مالیاتی جمود، اور بلند عوامی قرض جیسے مسائل اصلاحات کے تسلسل کے متقاضی ہے۔پاکستان کے معاشی مستقبل کی پیشن گوئی حوصلہ افزا ہے، جس کی بنیاد میکرو اکنامک استحکام اور اہم شعبوں کی بتدریج بحالی پر ہے۔
آئندہ سہ ماہیوں میں مہنگائی کی شرح 7 فیصد کے طویل مدتی اوسط کے قریب رہنے کی توقع ہے، جو معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے حالات کو مزید سازگار بنائے گی۔ اس استحکام سے پالیسی ریٹس میں مزید کمی ممکن ہو گی، جس سے کاروباری اداروں اور صارفین کے لیے قرض لینے کے اخراجات کم ہوں گے۔