کاشف حیدری نے مرکزی سیکریٹریٹ اسلام آباد میں صدر تنظیم کاشف چوہدری سے ملاقات کی، ملاقات میں بلوچستان کے تاجروں کو درپیش معاشی مسائل اور تنظیمی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مرکزی ترجمان ضیاء احمد راجا، قائمقام سیکریٹری اطلاعات سیف الدین نثار، عزت اللہ کاظمی اور دیگر بھی شریک تھے۔ کاشف حیدری نے کہا کہ بلوچستان کے تاجر ایک طویل عرصے سے حکومتی عدم توجہی، پالیسیوں کے عدم تسلسل اور ادارہ جاتی کمزوریوں کا شکار ہیں۔ صوبے کے تاجر نہ صرف ٹیکسوں کے غیر منصفانہ بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا کہ تاجر دوست اسکیموں کے نام پر جو پالیسیاں متعارف کروائی جا رہی ہیں، وہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں اور چھوٹے تاجروں کو مزید مشکلات میں دھکیل رہی ہیں۔ انہوں نے تنظیمی سطح پر تاجروں کے لیے رجسٹریشن کا آسان نظام، کاروباری لائسنسنگ کے پیچیدہ عمل میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے تاجر اپنے آئینی، معاشی اور تنظیمی حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے‘مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے کہا ہے کہ حکمران خائن اور غاصب نکلے وہ عوام کا سکھ نہیں چاہتے، بھوک سے مرنے والوں کے لیے ریلیف کے بجائے ٹیکسز لگائے جارہے ہیں، بجلی کے بلوں سے خودکشیاں کرتے وقت بجلی مہنگی کردی گئی کاروبار مشکل نہیں بحران کا شکار ہے، حکمرانوں نے اپنی عیاشیاں بند نہیں کیں ہماری مشکلات بڑھا دیں، ہر طبقہ مشکلات کا شکار ہے‘ انہوں نے کہاکہ انہوں نے کہاکہ اسکول کی کتابوں تک پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے، حکمران ملک کو برباد کرنے کے ایجنڈے پر آئے ہیں، ہماری پوری زندگی مشکلات سے بھری ہے، عوام میں نفرت اور غصہ بڑھ رہا ہے‘ قوم کا کوئی فرد اتنی مہنگی بجلی کا بل ادا نہیں کرسکتا، تاجر اپنے اثاثے فروخت کرکے بل ادا کررہے ہیں، مہنگے بلوں سے صنعتیں بند ہورہی ہیں بے روزگاری بڑھ رہی ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں مرکزی تنظیم تاجران پاکستان بلوچستان کے تاجروں کی نمائندہ اور ترجمان تنظیم ہے بلوچستان کے تاجروں کے مسائل کے حل کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے تاجروں پر بے جا ء اور ناروا ٹیکسز کسی صورت اجازت نہیں دینگے ان کے خلاف بھرپور جدوجہد کرینگے انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان کے تاجروں پر عائد ناجائز اور ناروا ٹیکسز فی الفور لیے جائیں بصور ت دیگر ملک بھر کے تاجر ز بھرپور احتجاج کریں گے