پشاور (ایم۔الیاس ملاخیل سے) — خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے حکومت نے 31 اگست کی حتمی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے۔ حکومتی احکامات کے مطابق افغان مہاجرین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر 31 اگست سے پہلے افغانستان واپس منتقل ہو جائیں، بصورت دیگر یکم ستمبر سے ان کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کو خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنرز، پولیس افسران اور دیگر متعلقہ محکموں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف کارروائی کی نگرانی کریں گی۔
مقامی پولیس نے مختلف اضلاع کی مساجد میں اعلانات کے ذریعے افغان باشندوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ 31 اگست سے پہلے وطن واپسی یقینی بنائیں، بصورت دیگر انہیں گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں آپریشن پشاور سمیت صوبے کے پانچ بڑے شہروں میں شروع کیا جائے گا، جس کے بعد کارروائی کا دائرہ کار قبائلی اضلاع تک بڑھا دیا جائے گا۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز کی نگرانی میں چھاپہ مار کارروائیاں ہوں گی اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو گرفتار کیا جائے گا۔
حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ ایسے غیر ملکیوں کے قومی شناختی کارڈ منسوخ کر دیے جائیں گے جو جعلی دستاویزات پر پاکستان میں مقیم پائے گئے۔ پشاور کے حساس اور گنجان آباد علاقوں جیسے حیات آباد، یونیورسٹی روڈ، خیبر بازار، نمک منڈی اور دیگر اہم تجارتی مراکز میں خصوصی چیکنگ کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق یہ آپریشن روزانہ کی بنیاد پر جاری رکھا جائے گا تاکہ صوبے سے غیر قانونی افغان مہاجرین کی واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری جانب ملک کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں افغان باشندے ازاخیل نوشہرہ کے کلیئرنس پوائنٹ پر پہنچ رہے ہیں تاکہ افغانستان واپسی کا عمل مکمل کر سکیں۔
تاہم کلیئرنس سنٹرز پر بنیادی سہولیات کی کمی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ افغان خاندانوں کو پینے کے صاف پانی، سایہ دار جگہ اور واش رومز جیسی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں، جس سے مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ شہری اور سماجی حلقوں نے حکومت اور یو این ایچ سی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ کلیئرنس مراکز پر فوری طور پر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ مہاجرین کی وطن واپسی باوقار طریقے سے ممکن ہو سکے –