اوستہ محمد کے شہری دورِ جدید میں بھی گیس اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ شدید موسم میں گیس اور صاف پانی کی عدم دستیابی نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ بلوچستان کا گرین بیلٹ اور صنعتی زون کہلانے والا یہ شہر حکومتِ بلوچستان اور وزیراعلیٰ کی توجہ سے محروم نظر آتا ہے۔
شہری حلقوں کے مطابق گیس اور پانی کی مین پائپ لائنیں برسوں سے خستہ حالی کا شکار ہیں، سیوریج اور علاج معالجے کے ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، جبکہ سرعام کرپشن کے باعث مقامی ٹھیکے دار مالا مال ہو گئے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ وسائل کی کمی اور کرپشن کلچر نے شہر کو مثلستان بنا دیا ہے، ایم پی اے فنڈز ناکافی ہیں اور سابق نمائندوں نے شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔
عوامی، سیاسی اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ اوستہ محمد کی ترقی اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے فوری طور پر ماسٹر پلان کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں۔