گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ تعلیم میں جزوی اصلاحات گہرے ڈھانچہ جاتی مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ پورے تعلیمی نظام کو پل پل بدلتی دنیا کے جدید تقاضوں اور اپنی معاشرتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ایک دانشمندانہ پالیسی کی ضرورت ہے۔ سردست جن چیلنجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کیلئے ہمیں اجتماعی دانش کے ذریعے ان بنیادی عوامل کا درست ادراک حاصل کرنا ہوگا جو ہمارے تعلیمی نظام کے زوال کا باعث بن رہے ہیں تاکہ ہم پورے تعلیمی نظام کو حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔ گورنر جعفرخان خان مندوخیل نے اپنے ایک بیان کہا کہ پرائمری سکول وہ بنیاد ہے جس پر پورا تعلیمی نظام استوار ہے۔ یہ تعلیمی ترقی کا آغاز ہے جہاں بچوں کے ذہنوں کو افہام و تفہیم کے بیجوں سے پروان چڑھایا جاتا ہے۔ پرائمری سیکٹر پر توجہ پورے نظام کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔
اس طرح ایک مضبوط بنیاد ایک مضبوط ڈھانچے کی راہ ہموار کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محض امتحانات کے دنوں میں سختی کرنے سے نقل کے ناسور کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ اس کیلئے تمام متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ شروعات سے ہی کلاسز میں باقاعدہ پڑھائی پر توجہ دے اور خاص طور پر اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنائے تاکہ نقل کی لعنت کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہمارے معاشرے کی یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے اکثر گورنمنٹ ٹیچرز اپنے بچوں کو سرکاری کی بجائے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں داخل کرانے کو ترجیح دیتے ہیں جو کہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔