امیر جمعیت علما اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع نے قلعہ سیف اللہ کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اہلِ قلعہ سیف اللہ مشکلات اور مصائب کا شکار ہوں اور وہ خاموش بیٹھے رہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں، وہ اپنے علاقے کے عوام اور خصوصا کسانوں کے مسائل ہر فورم پر بھرپور انداز میں اٹھاتے رہیں گے اور کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہوں نے کہا کہ قلعہ سیف اللہ کی ترقی کا پہیہ رک چکا ہے، عوام شدید مایوسی کا شکار ہیں، لیکن وہ عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ جب تک کسانوں اور زمینداروں کے مسائل حل نہیں ہوتے، وہ سکون سے نہیں بیٹھیں گے اور ہر ممکن جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ انتخابات کے دوران عوام کے دروازوں پر جا کر وعدے اور دعوے کرنے والے نمائندے آج کہیں نظر نہیں آ رہے۔
مولانا عبدالواسع نے قلعہ سیف اللہ کے مختلف دیہاتوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے حالیہ ژالہ باری اور شدید آندھی سے ہونے والے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرہ کسانوں اور زمینداروں سے ملاقاتیں کیں اور ان کے مسائل سنے۔ ان کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں حکومتی مشینری بھی متحرک ہوئی اور ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بھی ان کے ہمراہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ قلعہ سیف اللہ کے عوام کا واحد ذریعہ معاش زراعت ہے، جس کے لیے کسان پورا سال محنت اور انتظار کرتے ہیں، مگر حالیہ ژالہ باری اور آندھی نے ان کی کھڑی فصلوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ نہ صرف فصلیں برباد ہوئیں بلکہ سولر پلیٹس ٹوٹ گئیں اور درخت جڑ سے اکھڑ گئے، جس سے نقصانات کی شدت میں مزید اضافہ ہوا۔آخر میں انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر قلعہ سیف اللہ کے متاثرین کی جانب توجہ دی جائے، ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور کسانوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قلعہ سیف اللہ کے عوام پر رحم کیا جائے اور ان کی مشکلات کا عملی حل نکالا جائے، کیونکہ یہ صرف ایک علاقے کا نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے روزگار اور مستقبل کا مسئلہ ہی