سینئر سیاستدان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کیخلاف بلوچستان ہائیکورٹ سے درخواستیں واپس لینے والی سیاسی جماعتیں ایکٹ میں ترمیم کیلئے کمیٹی کو پیش کی گئیں اپنی اپنی سفارشات منظر عام پر لائیں تاکہ اس سرزمین کے لوگوں کو بھی پتہ چلے کہ کون سی سفارشات پیش کی گئیں ہیں۔
یہ بات انہوںنے ہفتہ کے روز سراوان ہاس میں مختلف وفود سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی، نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہاکہ مائنز اینڈ منرل ایکٹ کسی ایک کا انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ قومی اہمیت اور آئندہ نسلوں کی بقاکا مسئلہ ہے، سیاسی جماعتوں نے اس ایکٹ میں ترمیم کیلئے اپنی جو سفارشات کمیٹی کو دی ہیں ان سے مطالبہ ہے کہ وہ ان سفارشات کوپبلک کرکے منظر عام پر لائیں تاکہ اس سرزمین کے لوگوں کو پتہ چلے کہ بلوچستان ہائیکورٹ میں دائر اپنی درخواستیں واپس لینے والی سیاسی جماعتوں نے ایکٹ میں ترمیم کیلئے کمیٹی کو کون سی سفارشات پیش کی ہیں کیونکہ یہ ذاتی نہیں قومی مسئلہ ہے اور بلوچستان کے لوگوں کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ سفارشات کو منظر عام پر لایا جائی