کوئٹہ، 12 اگست: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ضلع سوراب میں مبینہ فضائی حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد کی ہلاکت کے واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے واقعے کے خلاف 16 اگست کو بلوچستان بھر میں احتجاج اور مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
کوئٹہ پریس کلب میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ساجد ترین نے مبینہ فضائی حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بی این پی سوراب واقعے کے خلاف جاری دھرنے کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے خضدار، سوراب، قلات اور گردونواح کے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو احتجاج میں بھرپور شرکت کی ہدایت کی۔
انہوں نے سوراب واقعے، لاپتہ افراد اور بلوچستان کے دیگر مسائل کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں حقائق معلوم کرنے والے کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا۔
ساجد ترین نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل طاقت کے بجائے سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق بی این پی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مبینہ جبر کے خلاف اپنی سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔
انہوں نے وڈھ اور مستونگ میں پیش آنے والے واقعات کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کے بعد بلوچستان کی صورتحال پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
بی این پی رہنما نے اعلان کیا کہ 16 اگست کے احتجاج کے بعد پارٹی کا مرکزی اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں آئندہ احتجاجی لائحہ عمل اور مستقبل کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
پریس کانفرنس میں آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، اختر حسین لانگو، موسیٰ بلوچ، رمضان بلوچ، صمند بلوچ، غلام نبی مری، واحد بلوچ، جاوید بلوچ، میر مقبول لہڑی، ٹکری شفقت لانگو، شمائلہ اسماعیل اور دیگر پارٹی رہنما و کارکن بھی موجود تھے۔