وزیر مملکت برائےداخلہ طلال چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے بانی کی صحت کے معاملے پر اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے من گھڑت بیانیہ بنا رہی ہےجبکہ زیر حراست رہنما کا طبی معائنہ بخوبی مکمل ہوا۔ ہفتہ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بانی کو فراہم کردہ طبی سہولیات اور علاج کسی دوسرے قیدی کو میسر نہیں آئے۔ جیل میں 24 گھنٹے ڈاکٹر موجود رہتا ہے جبکہ ان کا روزانہ تین مرتبہ معمول کا طبی معائنہ کیا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر انہیں ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ممکنہ امن و امان کی صورتحال کےپیش نظر طبی معائنہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں کرانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ ہسپتال کا نام اور معائنے کا وقت پہلے ہی ظاہر کر دیا گیا تھاجس کے باعث بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے کا خدشہ پیدا ہواجو طبی معائنے اور سکیورٹی انتظامات کے ساتھ ساتھ دیگر مریضوں کے لیے بھی مشکلات کا باعث بن سکتا تھا۔طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت کی بنیادی ترجیح پی ٹی آئی بانی کی صحت اور طبی معائنہ تھاجو بخوبی مکمل ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے پورے معاملے کو سیاسی رنگ دیا۔وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت کا عزم واضح ہے کہ ضرورت پڑنے پر تمام قیدیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ہفتہ کے روز کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس منعقد ہوا۔کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے بیچ-I کی ڈسکوز آئیسکو،فیسکو،گیپکو کے لیے تنظیمِ نو کے منصوبے کی منظوری دے دی۔

منصوبے کے تحت ڈسکوز کے زمین سے متعلق اثاثے حکومتِ پاکستان کی ملکیتی پاور ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کیے جائیں گے جو بطور ہولڈنگ کمپنی کام کرے گی۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا نجکاری کا اقدام ڈسکوز کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور نقصانات میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔منصوبے پر عملدرآمد اسکیم آف ارینجمنٹ کے ذریعے کیا جائے گاجسے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں جمع کرایا جائے گا۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے، معاون خصوصی وزیراعظم طارق باجوہ، سیکرٹری پاور،سیکرٹری نجکاری کمیشن، سیکرٹری نجکاری، سیکرٹری تجارت، سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن اور وزارتِ خزانہ، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.