کسی قانون میں بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ

گزشتہ حکومت کی ترمیم سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نہیں تھی،بیرون ملک پاکستانیوں کے ووٹ کا صرف طریقہ کار طے ہونا ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس، سماعت تین جون تک ملتوی
اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے اور موجودہ قانون میں بھی بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا گیا۔ بادی النظر میں گزشتہ حکومت کی ترمیم سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نہیں تھی ۔عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے پر مزید دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت تین جون تک ملتوی کردی ۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار داؤد غزنوی کی جانب سے وکیل عارف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جو پہلے ترمیم تھی وہ بھی یہی تھی اب والی ترمیم میں زیادہ وضاحت دی گئی ہے عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں گزشتہ حکومت کی ترمیم سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نہیں تھی اب جو ترمیم ہوئی اس میں بیرون ملک پاکستانیوں کا ووٹ کا حق ختم نہیں کیا گیالوگ باہر ہیں وہ وہاں سکونت رکھتے ہیں دونوں ترامیم ان کے حقوق کو ختم نہیں کر رہیں تیس سال سے یہ کام چل رہا تھا اب یہ کام ہوا ہے اس موقع پر وکیل عارف چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ یہ تو کوئی کہہ نہیں سکتا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایک جواب دے دیں بیرون ملک پاکستانی کس حلقے میں ووٹ دیں گے اس موقع پر وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے پاس سارے ادارے آئے تھے انہوں نے کہا ہم یہ کام کرنے کے لیے تیار ہیں سپریم کورٹ نے تمام اداروں کی یقین دہانی کے بعد فیصلہ دیا تھا کہ اس پر عمل کریں گزشتہ حکومت میں جو ترمیم ہوئی تھی وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر پورا کر رہی تھی عدالت نے استفسار کیا کہ کتنے پاکستانی بیرون ملک ہیں جس پر وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ نوے لاکھ لوگ بیرون ملک میں مقیم ہیں اس موقع پر درخواست گزار امریکہ میں مقیم پاکستانی عدالت کے سامنے پیش ہوئے عدالت نے استفسار کیا کہ امریکہ میں کیسے ووٹ ڈالے جاتے ہیں وہاں کا کوئی قانون ہو گا جس پر درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ابھی وہاں کا قانون مجھے معلوم نہیں میں مانسہرہ سے ہوں جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں گزشتہ حکومت کی ترمیم سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نہیں تھی اب جو ترمیم ہوئی اس میں بیرون ملک پاکستانیوں کا ووٹ کا حق ختم نہیں کیا گیابیرون ملک پاکستانیوں کے ووٹ کا صرف طریقہ کار طے ہونا ہے۔عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے پر مزید دلائل طلب کر لیے عدالت نے کیس کی مزید سماعت تین جون تک ملتوی کردی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.