:پاکستان مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کے رہنما و سابق صوبائی وزیر اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان کے وجو د اورنظریاتی اسا س کیلئےخطرہ ہے،یہ سی پیک ،گوادر اور پاکستانی معیشت کے دشمن ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ کر جائے،ان کے سوشل میڈیا اکائونٹس بیرونی ممالک سے چلتے ہیں،پی ٹی آئی اداروں کیخلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہی ہے، کے پی کی صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی توجہ صوبے کے عوام کے مسائل کی بجائے وفاق پر چڑھائی کرنے پر مرکوز ہے۔ جمعرات کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملکی معیشت اڑان بھر رہی ہے، بیرون ممالک سے سرمایہ کاری ہو رہی ہے جن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں مگر اس ترقی کو دیکھ کر پی ٹی آئی کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں
کیونکہ ان کا ایجنڈا پاکستان کی ترقی اور خوشحالی نہیں ہے،انشاء اللہ ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا سوشل میڈیا بیرونی ممالک سے چلایا جا رہا ہے، یہ کوئی سیاسی جماعت نہیں اس کا پاکستان کی معیشت کی بہتری یا ترقی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے،یہ اداروں کیخلاف جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہے ہیں،یہ چاہتے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ کر جائے مگر ہم ہر قسم کی قربانی دے کر بھی ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہونے دیں گے،یہ ایک طرف مہنگائی کا رونا روتے ہیں جبکہ دوسری طرف بانی پی ٹی آئی کے کیسز میں وکلاء کو اربوں روپے دیئے جاتے ہیں، یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے، اس کی تحقیقات ہونا چاہئیں۔اختیار ولی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے پی کو صوبے کے عوام کے مسائل حل کرنےکے بجائے وفاق پر چڑھائی کی فکر لگی ہوئی ہےصوبے میں امن و امان سمیت دیگر شعبوں میں کسی کی کوئی توجہ نہیں ہے، کے پی میں اغواء برائے تاوان سمیت جرائم کی شرح بہت بڑھ گئی ہے
اسلام آباد میں چڑھائی کرتے وقت انسانی حقوق کے ڈھنڈورہ پیٹنے والے اپنے صوبے میں احتجاج پر مظاہرین پر لاٹھی چارج کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن لیڈر کو لگانے کا مطالبہ کرنے والے اپنے صوبے میں یہ فارمولا اپنانے سے انکاری ہیں،یہ چور بھی خود اور وکیل بھی خود ہی بننا چاہتے ہیں، کیونکہ ان کی 2800 ارب روپے سے زائدکی خوردبرد پکڑی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں ہسپتال اور سکول برباد ہو چکے ہیں، تین ہزار سے زائد سکولوں میں صرف ایک استاد بچوں کو پڑھاتا ہے جبکہ بچے ننگے فرش پر بے سروسامانی کی حالت میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں،صوبے میں ادویات کی شدید قلت ہے اور وہاں کے عوام وفاق اور پنجاب جا کر علاج کرانے پر مجبور ہیں۔