امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان، سینیٹر مولانا عبدالواسع نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جے یو آئی ہمیشہ اصولوں، نظریے اور عوامی اعتماد کی پاسدار رہی ہے۔ جماعت نے اقتدار کی خواہش کے بجائے اپنے منشور اور موقف کو ترجیح دی ہے، اور یہی جے یو آئی کی اصل پہچان اور اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کا مشن نوجوان نسل کی کردار سازی اور تربیت ہے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکیں، نہ کہ گمراہی اور اندھیروں کی اسیر بنیں بدقسمتی سے بعض عناصر خوشنما نعروں کے ذریعے نئی نسل کو سراب کے پیچھے دوڑاتے ہیں اور انہیں ناکامی کی راہوں پر گامزن کرتے ہیں۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جے یو آئی کو جمہوریت کے کمزور ہوتے ڈھانچے اور انتخابی عمل کی شفافیت پر گہرے تحفظات ہیں۔
تاہم، اصولی موقف پر ثابت قدم رہنا جماعت کا شیوہ رہا ہے۔ جے یو آئی نے کبھی وقتی فائدے یا ذاتی مفاد کے لیے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی بعض جماعتوں کو اقتدار ملا، انہوں نے اپنے منشور اور وعدوں کو پسِ پشت ڈال دیا۔ قوم پرست جماعتوں کو آزمایا گیا تو ان کی ترجیح ذاتی مفاد رہی، نومولود جماعتوں کو آزمایا گیا تو بحرانوں نے جنم لیا۔
آج صوبے کی اس حالت کے ذمہ دار یہی نت نئے تجربات ہیں۔ اگر عوامی حمایت یافتہ جماعت جے یو آئی کو عوامی امنگوں کے مطابق اقتدار دیا جاتا تو آج حالات اس نہج پر نہ پہنچتے۔ جے یو آئی صوبے کی ڈائنامکس سے بخوبی واقف ہے، صوبے کے طول و عرض میں ایکٹیو سیاست کرتی ہے اور تمام طبقات میں یکساں پذیرائی رکھنے کے باوجود ہمیشہ اقتدار سے دور رکھی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ بعض عناصر اپنی ناکامیوں اور کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جے یو آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، تاکہ اپنی اصل کو چھپایا جا سکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جے یو آئی نے ہمیشہ کرسی کے بجائے اصول کو فوقیت دی ہے۔ ہماری جماعت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہم نظریے پر کوئی سودے بازی نہیں کرتے، چاہے ایوانوں کے دروازے ہمارے لیے بند ہی کیوں نہ ہوں۔انھوں نے کہا کہ اگر آج بھی کوئی جماعت کردار، خدمت اور عملی جدوجہد کی بنیاد پر سیاست کر رہی ہے تو وہ صرف جے یو آئی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ دوسروں کی طرح محض دعوؤں اور نعروں کے بجائے عملی میدان میں کردار کے ذریعے اپنی پہچان بنائی جائے۔ جے یو آئی نے ہمیشہ کہا نہیں بلکہ دکھا کر سیاست کی ہے۔