کوئٹہ (خصوصی رپورٹ): صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ، بی بی زیارت والی گلی میں بدامنی اور اسٹریٹ کرائم کا ایک اور سنگین واقعہ پیش آیا ہے، جہاں 3 مسلح ملزمان نے جابرانہ کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف شہری کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس سے اسلحہ کے زور پر موٹر سائیکل چھین کر باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے
۔ذرائع کے مطابق متاثرہ شہری کو بی بی زیارت والی گلی میں 3 نامعلوم مسلح ڈکیٹوں نے گھیر لیا۔ ملزمان نے بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہری پر تشدد کیا اور گن پوائنٹ پر اس کی موٹر سائیکل چھین لی۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ پولیس معمول کی طرح وقت پر موقع پر پہنچنے میں ناکام رہی۔پولیس کا رویہ اور ایف آئی آر میں ہیرا پھیریمتاثرہ شہری جب انصاف اور قانونی کارروائی کے لیے نیو سریاب تھانے پہنچا تو پولیس کے رویے نے مزید سوالات کھڑے کر دیے۔ مدعی کے مطابق تھانہ نیو سریاب کے اہلکاروں نے ایف آئی آر (FIR) درج کرتے وقت واقعے کی سنگینی کو کم کرنے کے لیے “گن پوائنٹ” (مسلح ڈکیتی) اور شہری پر تشدد کا ذکر ہی نہیں کیا اور کیس کو ایک معمولی چوری یا گمشدگی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔عوامی تشویش اور مطالبہ واقعے کے بعد علاقہ مکینوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف سریاب میں آئے روز مسلح ڈکیتی اور تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور دوسری طرف پولیس ایف آئی آر میں اصل حقائق کو چھپا کر سنگین جرائم کو معمولی ظاہر کرنے میں لگی ہوئی ہے تاکہ کارکردگی پر سوالات نہ اٹھیں۔ متاثرہ شہری اور اہل علاقہ نے آئی جی بلوچستان اور ڈی آئی جی کوئٹہ سے مطالبہ کیا ہے کہ:واقعے کی درست دفعات (گن پوائنٹ، تشدد اور مسلح ڈکیتی) کے تحت ایف آئی آر میں ترمیم کی جائے۔غفلت برتنے اور حقائق چھپانے والے تھانہ نیو سریاب کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ ملزمان کا سراغ لگا کر شہری کی موٹر سائیکل بحال کی جائے اور علاقے میں گشت بڑھایا جائے۔